انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 212

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۱۲ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں مشہور ہوگا بلکہ میرا ایک بیٹا ہوگا اور اُس کا نام بھی دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔یہ پیشگوئی جس شان کے ساتھ پوری ہو چکی ہے اس سے کوئی شخص جس کے دل میں سچائی اور دیانت کا ایک ذرہ بھر بھی مادہ ہو ا نکار نہیں کر سکتا۔۱۸۸۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی مزید تشریح کرتے ہوئے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جو سبز رنگ کے کاغذوں پر شائع ہوا۔ہماری جماعت میں اس اشتہار کا نام ہی سبز اشتہار مشہور ہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ وہ مکان جس میں آپ نے چالیس روز اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جو اب ایک ہندو دوست کے قبضہ میں ہے اور جسے ہم ہوشیار پور میں دیکھ آئے ہیں اُس کا رنگ بھی سبز ہی ہے۔گویا ۱۸۸۸ء کا اشتہار بھی سبز رنگ کے اوراق پر شائع ہوا اور اُس مکان کا رنگ بھی سبز ہی ہے جو اُس ہندو دوست کے قبضہ میں ہے۔سیٹھ صاحب قادیان مجھ سے ملنے کے لئے آئے تھے میں نے اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیونکر خیال آگیا کہ اس مکان پر سبز رنگ کیا جائے کوئی اور رنگ نہ ہو۔وہ کہنے لگے ہمارا کاروبار چونکہ بہت وسیع ہے (چنانچہ ایک ہسپتال انہوں نے بنایا ہوا ہے جس میں سینکڑوں مریضوں کو روزانہ مفت دوا دی جاتی ہے اسی طرح اُن کی ایک سرائے ہے ) اس لئے جب یہ مکان بنا تو ایک کمپنی جس کا نام انہوں نے غالباً ڈیکو بتایا اُس کا ایجنٹ ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا ہماری فرم آپ کی کوٹھی پر مفت پینٹ کرنا چاہتی ہے بتائیے آپ کو نسا روغن کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا کوئی روغن کر دیں۔اُس نے روغنوں کی کاپی نکال کر میرے سامنے رکھ دی کہ ان میں سے کوئی سا روغن پسند کر لیں۔اُس وقت بے اختیار میری اُنگلی سبز رنگ کی طرف اُٹھ گئی اور میں نے کہا کہ یہ رنگ ہماری کوٹھی پر کر دیں چنانچہ سبز رنگ کر دیا گیا اور وہ اشتہار بھی سبز رنگ کا ہی تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصلح موعود کی خبر کی مزید تشریح فرمائی تھی۔بعض لوگ کہتے ہیں مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی آئندہ نسل سے تین چار سو سال کے بعد آئے گا موجودہ زمانہ میں نہیں آسکتا۔مگر ان میں سے کوئی شخص خدا کا خوف نہیں کرتا کہ وہ پیشگوئی کے الفاظ کو دیکھے اور ان پر غور کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو لکھتے ہیں اس وقت اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام اپنے اندر نشان نمائی کی کوئی طاقت نہیں