انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 203

انوار العلوم جلد ۱۷ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں سے کیا وہ دنیا میں کوئی شریف انسان کسی دوسرے شریف انسان سے نہیں کیا کرتا۔دنیا میں ایک انسان کا معمولی باپ مر جاتا ہے جس پر اُس کا گزارہ بھی نہیں ہوتا ، دنیا میں کسی شخص کی ماں مر جاتی ہے، دنیا میں کسی شخص کا بچہ مر جاتا ہے تو سب لوگ اُس سے ہمدردی کرنے کے لئے آتے ہیں۔مگر ہم میں اُس شخص کی وفات ہوئی جو میرے لئے ہی نہیں ساری جماعت کے لئے خدا کا ایک نور تھا، ہمارا مقتدا اور پیشوا تھا جس سے ہماری نجات وابستہ تھی مگر ادھر آپ کی وفات ہوئی اور ہم آپ کی نعش کو قادیان لے جانے کی تیاری کرنے لگے اور ادھر لاہور کے ہزاروں آدمیوں نے چارپائی پر ایک شخص کو لٹا کر اور اُس پر کفن کی طرح کپڑا ڈال کر اپنے کندوں پر اُٹھا لیا اور ہمارے دل دُکھانے کے لئے ان ہزاروں آدمیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہائے ہائے مرزا۔ہائے ہائے مرزا۔مگر ہمارے حوصلے ہیں کہ ہم نے کبھی اس کا گلہ نہیں کیا۔ہمارے دل سے کبھی اے لاہور والو! تمہارے متعلق بد دعا بھی نہیں نکلی۔ہم نے تمہارا یہ فعل اپنی آنکھ سے دیکھا مگر پھر ہم نے اپنے خدا سے یہی کہا کہ خدایا ! یہ نا واقف لوگ ہیں ان کو پتہ نہیں کہ جس شخص کی یہ مخالفت کر رہے ہیں وہ تیرا رسول اور دنیا کا نجات دہندہ ہے۔اے ہمارے رب ! انہوں نے جو کچھ کیا یہ سمجھ کر کیا کہ وہ ایک سچائی کی تائید کر رہے ہیں پس تو بھی ان کو معاف فرما دے اور ان کو اپنے کسی عذاب میں مبتلا مت کر بلکہ ان کو ہدایت دے اور ان کے دل اپنی سچائی کیلئے کھول دے تا کہ یہ تیرے نبی کا جھنڈا بلند کرنے کا باعث ہوں اسے گرانے اور دین کو رُسوا کرنے کا موجب نہ ہوں۔بہر حال یہ وہ حالت تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اب مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں اس سلسلہ کا اب خاتمہ سمجھو۔تب اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لوگوں کے دلوں میں ڈالا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خلیفہ مقرر کریں۔چنانچہ سب جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور وہ خلیفہ اول مقرر ہوئے۔جب لوگوں نے دیکھا کہ جماعت کا شیرازہ بکھرا نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب ترقی حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے اس سلسلہ کو حاصل ہو رہی تھی۔وہ پیچھے بیٹھ کر کتا بیں لکھتے اور مرزا صاحب