انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 202

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۲ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں آپ کی اس کوشش میں شاید کئی جوتیاں بھی گھس گئی ہوں گی مگر کوئی شخص آپ کی بات نہیں سنتا۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنے حجرے میں بیٹھے رہتے ہیں اور پھر بھی ساری دنیا اُن کی طرف کھینچی چلی جاتی ہے۔آخر ان کے پاس کوئی سچائی ہے تبھی تو ایسا ہورہا ہے ورنہ لوگ آپ کی بات کیوں نہ سنتے۔تو دنیا جس قدر مخالفت کر سکتی تھی اُس نے کی مگر با وجود اس کے ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد ایک اور ایک کے بعد ایک اِس سلسلہ میں داخل ہونا شروع ہوا۔ہندوستان کے ہر گوشہ سے لوگ آئے اور اس جماعت میں شامل ہوئے۔پھر صرف ہندوستان میں ہی نہیں افغانستان میں بھی یہ سلسلہ پھیلا۔یہاں تک کہ وہ شخص جس نے امیر حبیب اللہ خان کے سر پر تاج رکھا تھا وہ بھی آپ کی بیعت میں شامل ہو گیا اور اسی ایمان کی وجہ سے کابل میں سنگسار کیا گیا۔ان کی سنگساری سے پہلے امیر حبیب اللہ خان نے اُن کو بار بار کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کے دکھانے کے لئے ہی کہہ دیں کہ میں احمدی نہیں، میں آپ کی ہتھکڑی اُتارنے کے لئے تیار ہوں۔مگر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ بادشاہ ! تم کو کیا پتہ کہ یہ ہتھکڑی مجھے سونے کے کڑوں سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتی ہے۔جب اُنہیں سنگسار کرنے کے لئے پتھر پھینکے گئے تو وہ لوگ جو اُس وقت پاس موجود تھے بتاتے ہیں کہ ادھر اُن پر پتھر پڑ رہے تھے اور ادھر اُن کی زبان سے یہ کلمات نکل رہے تھے کہ اے خدا! میری اس قوم کو بخش دے اور اسے ہدایت دے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ میں سچائی پر قائم ہوں۔بہر حال اُس وقت صرف افغانستان تک ہی جماعت احمدیہ پہنچی تھی اور ممالک میں صرف اِکا دُکا کوئی احمدی تھا۔خود ہندوستان میں اُس وقت جماعت احمدیہ کی یہ حالت تھی کہ گو اس کے اکثر حصوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچ چکا تھا مگر جماعت کا رُعب ابھی قائم نہیں ہوا تھا۔لوگ مخالفت کرتے اور شدت سے کرتے تھے۔اسی شہر لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر جو کچھ کیا گیا وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ جماعت احمدیہ کی اُس وقت کیا حالت تھی۔اور اے لاہور کے لوگو! ہم نے آپ لوگوں کو گو اپنے دل سے بخش دیا ہے مگر آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر جو سلوک ہم