انوارالعلوم (جلد 17) — Page 193
انوار العلوم جلد کا ۱۹۳ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں حدیث دونوں میں نظر نہ آئے تو پھر قرآن اور حدیث کی روشنی میں جو کچھ ہمیں سمجھ آئے اس پر ہم عمل کرتے ہیں۔جب انہوں نے یہ تقریر کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سن کر فرمایا یہ تو بالکل ٹھیک باتیں ہیں ان میں سے کسی کی تردید کی ضرورت نہیں۔وہ ہزاروں آدمی جو آپ کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے اُن سب نے کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور بُرا بھلا کہنے لگے کہ تم ڈرپوک ہو ، بزدل ہو، ہار گئے ہو۔غرض آپ پر خوب نعرے کے گئے۔آپ گئے تھے ہزاروں کے ہجوم میں اور نکلے ایسی حالت میں جبکہ لوگ آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے تھے۔گئے تھے ایسی حالت میں کہ لوگ سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ جا رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ہم اسلام کا ایک پہلوان اپنے ساتھ لئے جا رہے ہیں مگر نکلے ایسی حالت میں کہ لوگ آپ کو ایک بھگوڑا قرار دے رہے تھے اور آپ کے خلاف نعرے گس رہے تھے۔مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور وہاں سے واپس چل پڑے۔اُسی رات آپ پر الہام نازل ہوا کہ :۔تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘۱۲ غرض آپ پر یہ الہام ہوا اور آپ نے اُسی وقت اس الہام کو دنیا میں شائع کر دیا۔تب اس الہام دنیا میں چاروں طرف سے آپ کے خلاف آواز میں اُٹھنی شروع ہوگئیں۔بعضوں نے کہا مکار ہے اور اس ذریعہ سے اپنی عزت بڑھانا چاہتا ہے ، بعضوں نے کہا یہ شخص یونہی اسلام کی تائید کر رہا ہے ورنہ در حقیقت اسلام میں سچائی پائی ہی نہیں جاتی۔غرض جو لوگ اسلام کے قائل تھے انہوں نے بھی اور جو لوگ اسلام کے قائل نہیں تھے انہوں نے بھی ہر رنگ میں آپ کی تضحیک شروع کر دی۔اُس وقت خصوصیت سے پنڈت لیکھرام نے شور مچایا کہ یہ جو معجزات دکھانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں سب غلط اور بے بنیاد ہیں۔اگر اسلام سچا ہے، اگر قرآن سچا ہے اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں تو ہمیں کوئی نشان دکھایا جائے۔اسی طرح ایک منشی اندر من صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے انہوں نے بھی شور مچایا کہ یہ نشان نمائی کے دعوے سب غلط ہیں اگر اسلام کی صداقت میں نشان دکھایا جا سکتا ہے تو ہمیں