انوارالعلوم (جلد 17) — Page 184
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۸۴ مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت دونوں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔باقی یہ کہنا کہ اے خدا کے مسیح موعود ! تو مجھے فلاں چیز دے۔یا یہ کہنا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! میری فلاں خواہش پوری فرما ئیں یہ پاگل پن کی بات ہے۔کوئی مومن ایسی حرکات کو برداشت نہیں کر سکتا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہمارا جو تعلق ہے محض خدا کے واسطہ سے ہے۔اگر یہ واسطہ نہ ہوتا تو پھر ہماری طرح وہ آدمی ہی تھے اس سے بڑھ کر اُن میں کون سی بات تھی۔پس جو شخص ایسا پاگل ہو کہ وہ خدا کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا مانگے ، سچی بات تو یہ ہے کہ وہ احمدی ہے ہی نہیں۔پس دعا کے وقت اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے تا کہ ہماری دعا کا کوئی پہلو ایسا نہ ہو جو مشر کا نہ ہو۔دعا کرنے سے پہلے درود پڑھا جائے اور اس کے بعد وہی دعا مانگی جائے جو ہم روزانہ یہاں آ کر مانگتے ہیں اور جو امت کیلئے بہترین دعا ہے۔یعنی یہ دعا کہ ربنا اتنا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلايْمَانِ آنْ أمِنُوا بِرَبِّكُم فامتا ۵ اے ہمارے رب ! ہم نے تیری طرف سے ایک منادی کو یہ پکارتے سنا کہ خدا پر ایمان لے آؤ سو ہم نے اس کی آواز کو سنا اور تجھ پر ایمان لے آئے۔ایمان کے بعد ہم پر بہت سے فرائض عائد ہو گئے ہیں مگر ہم کمزور اور ناتواں ہیں۔ربّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ كَفْرَ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مع الابرار اے ہمارے رب! ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو ہمارے گناہوں کو بخش۔ہمیں ہمت اور توفیق عطا فرما اور اپنی بخشش ہم پر نازل فرما اور ہماری موت جب بھی آئے ہم نیک لوگوں میں شامل ہوں۔اس طرح جب ہم اس سے اپنی کمزوریاں معاف کرالیں تو اس کے بعد ہم کہتے ہیں ربَّنَا وَ اتِنَا مَا وَعَدَ تَنَا عَلى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ ، إنَّكَ لا تُخْلِفُ المیعاد کے جب آپ ہمارے قصور معاف فرما چکے ہیں تو اب ہمارے ذریعہ سے وہ وعدے پورے فرمائیے جو نبی سے آپ نے کئے تھے۔یہی ذریعہ ہے جس سے اُمتیں ترقی کرتی ہیں کہ پہلے نبیوں کو انعام ملتا ہے اور پھر وہی انعام اُن کی اُمتوں کو مل ( الفضل ۷ رمئی ۱۹۴۴ ء ) جاتا ہے۔بخاری کتاب الجنائز باب الميت يسمع خفق النعال