انوارالعلوم (جلد 17) — Page 183
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۸۳ مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت۔دعا کیا کرتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کرتا ہوں اور دعا یہ کیا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اپنے ان بزرگوں کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کر سکوں۔میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لئے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہو تو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ ! یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا ہے؟ اور جب خدا انہیں بتاتا ہے تو وہ اُس کیلئے دعا کرتے ہیں اور اس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔اسلام کا مسلمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعا ئیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔قرآن کریم نے بھی فَحيوا بأحسن منها " کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اُس سے بہتر تحفہ اُسے دو ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اُس نے دیا۔قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریم ﷺ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیلئے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خدا تعالیٰ ہماری طرف سے اِس دعا کے نتیجہ میں اُنہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ہم نہیں جانتے کہ جنت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان نعمتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے جب ہم دعا کریں گے کہ الہی ! تو رسول کریم ہے کو کوئی ایسا تحفہ دے جو اس سے پہلے اُنہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ انہیں دیا جاتا ہوگا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہوگا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس علم کے بعد وہ چپ کر کے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لئے دعا نہ کریں۔ایسے موقع پر بے اختیار اُن کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پرگر جائے گی اور کہے گی کہ اے خدا! اب تو ہماری طرف سے اس کو بہتر جزاء عطا فرما۔اس طرح فَحَيوا بِاحْسَنَ مِنْهَا کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔گویا قومی اور فردی صلى الله