انوارالعلوم (جلد 17) — Page 176
انوار العلوم جلد کا ایک اہم ہدایت حصہ عطا فرما۔اور در حقیقت یہی انسان کی ترقی کا راز ہے۔بندے جب اللہ تعالیٰ کے سارے فضلوں کو لے لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں اے اللہ ! ہم پر اور فضل نازل فرما تو خدا ان پر اور فضل نازل فرما دیتا ہے۔وہ شخص جس کی جھولی میں روٹیاں بھری ہوئی ہوں اُسے کون خیرات ڈالتا ہے۔جو شخص بھی اُسے دیکھے گا یہی کہے گا کہ تمہاری جیب میں تو پہلے ہی کافی روٹیاں موجود ہیں تمہیں اور خیرات کی کیا ضرورت ہے۔لیکن جب اُس کی جیب خالی ہو تو پھر ہر شخص اُسے خیرات دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب تک یہاں جگہ خالی تھی اللہ تعالیٰ کے مزید فضل نازل ہونے کے لئے بظاہر کوئی محرک نہ تھا کیونکہ آدمی موجود تھے لیکن وہ توجہ سے کام نہیں لیتے تھے۔مگر اب جبکہ جگہ پر ہو گئی ہے ، فرشتے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتے ہیں اور ہر نماز میں میں محسوس کرتا ہوں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے خدا! پہلی جگہ تو بھر گئی اب تو اور جگہ دے جس میں تیرے اور مومن بندے آئیں اور تیری عبادت بجالائیں۔چنانچہ آج ہی میں نے اس غرض کے لئے احکام جاری کر دیئے ہیں اور قریباً اتنی ہی اور مسجد انشَاءَ اللہ بن جائے گی۔یہ نئی برکت آپ لوگوں کے صرف تین دن یہاں آ کر نماز پڑھنے کی وجہ سے نازل ہوئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص مسجد بناتا ہے، خدا اُس کا گھر جنت میں بناتا ہے لیے بے شک تعمیر مسجد سے بھی جنت ملتی ہے مگر جو اپنے آنے کی وجہ سے مسجد بنوا تا یا اس کی توسیع کا موجب بنتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی جنت میں اپنا گھر بنواتا ہے۔جو شخص روپے خرچ کرتا ہے اور اُس کی وجہ سے مسجد کیلئے زمین خریدی جاتی ہے یا اینٹیں خریدی جاتی ہیں یا اور ضروریات مہیا کی جاتی ہیں وہ اگر جنت میں جا سکتا ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اِن مومنوں کو کیوں جنت نہیں ملے گی جو مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں اور جن کے نماز پڑھنے کی وجہ سے مسجد تنگ ہو جاتی ہے اور اسے وسیع کرنا پڑتا ہے۔تو بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر بڑے بڑے نتائج پیدا کر دیا کرتی ہیں۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جو ابھی آپ لوگوں نے کرنی ہیں اور میں اِنْشَاء الله وقتاً فوقتاً وہ باتیں بتا تا رہوں گا جب آپ لوگ ان باتوں کو پورا کرلیں گے تو اس کے بعد آپ کو ترقیات ملیں گی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہماری جماعت کے لئے کھل جائیں گے۔مگر اس