انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 175

۱۷۵ ایک اہم ہدایت انوار العلوم جلد ۱۷ نمازیں پڑھنے کے لئے آرہے ہیں کہ گل سے میں بھی سوچ رہا ہوں اور بعض دوسرے دوست بھی کہ اب یہ مسجد اس قابل نہیں رہی کہ سب لوگ اس میں سماسکیں بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بڑھا دیا جائے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں پہلی برکت تو یہ نازل ہوئی ہے کہ آج ہی میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس مسجد کو پہلو کی طرف بڑھا دیا جائے۔اس سے انشَاءَ اللهُ یہ مسجد موجودہ مسجد سے دُگنی ہو جائے گی۔مسجد کے لئے یہ جگہ سالہا سال سے خریدی جا چکی تھی لیکن جبکہ پہلے ہی مسجد کی کئی صفیں نمازیوں سے خالی رہتی ہوں تو یہ تحریک کس طرح کی جاسکتی تھی کہ اسے اور بڑھا دیا جائے۔مگر اب جبکہ پرسوں سے لوگ کثرت کے ساتھ اس مسجد میں نماز کے لئے آنے شروع ہو گئے ہیں صاف پتہ لگ رہا ہے کہ پہلے تو مسجد خدا تعالیٰ کے حضور فریادی تھی اور کہہ رہی تھی کہ خدایا! تو نے مجھے بے کس کیوں چھوڑ رکھا ہے اور آج نمازی فریادی ہیں کہ اے خدا! ہمیں اس مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی تو اس مسجد کو اور بڑھا دے تا کہ ہم اس کی برکات سے حصہ لے سکیں۔یہ کتنا زمین و آسمان کا فرق ہے کہ آج سے چار دن پہلے روحانی نگاہ سے فرشتے زمین کی طرف حسرت سے دیکھ رہے تھے کہ کیوں خدا کے بندے اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے اور چار دن کے بعد آج آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور انسان حیرت سے کہہ رہے ہیں کہ خدایا ! تو ہم پر اور فضل کیوں نازل نہیں کرتا۔میں نے بتایا ہے اس غرض کے لئے زمین خریدی جا چکی تھی اب انشَاءَ اللَّهُ اِس مسجد کو بڑھا دیا جائے گا۔میں اپنے قلب میں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف ہوتا ہے۔گو کسی الہام یا رویا کی بناء پر میں یہ نہیں کہہ رہا مگر میرا قلب یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص جو یہاں نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے وہ سلسلہ کی ترقی کے لئے ایک نیا باب کھولتا ہے۔ہر نماز جو وہ یہاں ادا کرتا ہے خدا کے سامنے کہہ رہی ہوتی ہے کہ اے خدا ! لوگوں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی اب تو اور جگہ لا جہاں اور آدمی آئیں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔پہلے خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں سے شکوہ تھا کہ وہ اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے کیوں نہیں آتے اور کیوں اسے خالی رکھتے ہیں اور آج بندے خدا سے یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ خدایا ! ہم پر جو فرض عائد تھا وہ ہم نے پورا کر دیا آب تو اور فضل نازل فرما اور اپنی اور زیادہ برکات سے نہیں