انوارالعلوم (جلد 17) — Page 174
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۷۴ ایک اہم ہدایت سال سے اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آئے۔اس صورت میں وہ خود ہی غور کریں ان کی روحانیت کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ ابھی میں لاہور میں ہی تھا کہ مجھے ایک دوست ملے جو قادیان کے رہنے والے تھے انہوں نے اپنے متعلق ذکر کیا کہ میری حالت یہ ہے کہ جب تک میں قادیان میں رہتا ہوں میں محسوس کرتا ہوں کہ میری روحانیت ماری گئی ہے مگر جب میں باہر جاتا ہوں تو اُس وقت سلسلہ کی محبت کا ایک جوش اپنے اندر پاتا ہوں۔میں نے اُن سے کہا آپ ٹھیک کہتے ہوں گے مجھے انکار نہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہوگا لیکن جب حالت یہ ہے تو آپ اپنی روحانیت کو کیوں تباہ کرتے ہیں آپ باہر ہی رہا کریں قادیان میں نہ رہیں۔تو حقیقت یہ ہے کہ محض قادیان میں آجانے سے انسان کو برکت حاصل نہیں ہوتی بلکہ برکت اُن ذمہ واریوں کو ادا کرنے سے حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہیں۔جو شخص یہاں آ کر ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا وہ اگر دانستہ ایسا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہو گا۔اور اگر نا دانستہ ایسا نہیں کرتا تو گو اُسے عذاب نہ ہو مگر اُس کے دل پر زنگ ضرور لگ جائے گا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کر لیتا ہے اور وہ خود کشی کا مرتکب سمجھا جاتا ہے لیکن دوسرا شخص خود تو اپنے آپ کو گولی نہیں مارتا ہاں غلطی سے اُس کی بندوق اُس کے ہاتھ سے اُسی کی طرف چل جاتی ہے۔ایسی صورت میں گو وہ خود کشی کا مرتکب نہ سمجھا جائے مگر ہلاک ضرور ہو گا۔اسی طرح جو شخص دانستہ ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا وہ عذاب کا مستحق ہوگا اور جو شخص نا دانستہ ان ذمہ واریوں کو ادا نہیں کرتا وہ گو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ نہ بنے مگر اُس کے دل پر زنگ ضرور لگ جائے گا۔غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے جب میرے دل پر یہ خیال غالب آ گیا تو میں نے جماعت کے دوستوں میں تحریک کی کہ وہ یہاں آ کر نمازیں پڑھا کریں۔اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو قبول فرمایا۔چنانچہ کجا تو یہ حالت تھی کہ آج سے چار پانچ دن پہلے یہ مسجد خدا سے فریادی ہورہی تھی کہ میرے پاس جگہ خالی پڑی ہے قادیان میں احمدی موجود ہیں مگر وہ اسے پر کرنے کے لئے نہیں آتے۔تو کہتا ہے کہ اگر وہ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھیں گے تو انہیں برکت ملے گی مگر وہ اس برکت کو لینے کے لئے تیار نظر نہیں آتے اور کجا یہ حالت ہے کہ اب اس کثرت سے لوگ یہاں