انوارالعلوم (جلد 17) — Page 147
۱۴۷ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان انوار العلوم جلد ۱۷ تیار ہوں مگر باوجود اس کے کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کو یہ کہا کہ آپ کسی کا نام پیش کریں میں اُس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں چونکہ خدا کا منشا یہ تھا کہ اس شہر میں اُس نے جو الہامات نازل فرمائے تھے اُن کو پورا کرے اور دنیا کو اپنی قدرت کا نشان دکھائے اس لئے ان کی عقل پر ایسے پتھر پڑ گئے کہ انہوں نے میری اس بات کو تسلیم نہ کیا اور چونکہ جماعت اس بات پر مصر تھی کہ کسی شخص کو خلیفہ ضرور بنایا جائے اس لئے مولوی محمد علی صاحب کی بات کو کسی نے نہ مانا اور جماعت نے مجھے اپنا خلیفہ بنالیا۔میں بتا چکا ہوں کہ میں تعلیم سے بچپن سے ہی کو راہوں وہ سمجھتے تھے کہ ایسا آدمی جب ایک علمی جماعت کا امام بنے گا تو جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ظاہری حالات کے لحاظ سے اس بات کا امکان ہو سکتا تھا۔چنانچہ اُس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب جو ایک کامیاب ڈاکٹر تھے ، انہوں نے باہر نکل کر ہمارے مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آج ہم تو جارہے ہیں کیونکہ جماعت نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا لیکن تم تھوڑے ہی دنوں تک دیکھو گے کہ اس مدرسہ پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور تمام عمارت ان کے پاس چلی جائے گی۔یہ اُس وقت کہا گیا تھا جب ہمارے سالانہ جلسہ پر دواڑھائی ہزار آدمی آیا کرتے تھے اور اُس وقت کہا گیا تھا جب خزانہ میں صرف گیارہ بارہ آنے کے پیسے تھے اور سترہ اٹھارہ ہزار روپیہ قرض تھا۔یہ لوگ جو بڑے بڑے مالدار تھے اور جماعت میں عزت اور وقار رکھتے تھے انہوں نے سمجھا کہ جب ہم قادیان کو چھوڑ کر چلے جائیں گے تو جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اُس وقت میری عمر پچیس سال کی تھی اور میری ساری عمر بیماریوں میں گزرگئی تھی۔میں نے دینی یا دنیوی تعلیم کسی مدرسہ میں حاصل نہیں کی تھی اور میرے مقابلہ میں جولوگ کھڑے تھے وہ قوم کے لیڈر، سردار اور معزز تھے ، پس دینوی لحاظ سے یہی خیال کیا جا سکتا تھا کہ وہ قوم ڈوب جائے گی جسے ایسا راہنما اور سردار ملا ہو لیکن جس وقت اُنہوں نے یہ کہا کہ اس مدرسہ پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور تمام عمارتیں اُن کے پاس چلی جائیں گی اور جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ اب قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اُس وقت میں اپنے گھر میں گیا اور میں نے اپنے خدا سے یہ دعا کی کہ خدایا ! میں اس عہدے کے لئے کبھی متمنی نہیں ہوا، میں نے کبھی تجھ سے