انوارالعلوم (جلد 17) — Page 148
انوار العلوم جلد ۷ ۱۴۸ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان نہیں چاہا کہ تو مجھے خلیفہ مقرر کر دے۔اب جب کہ تو نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور تو نے خود مجھے اس کام کے لئے چنا ہے تو اے میرے ربّ! تو مجھے طاقت بھی دے جس سے میں ان صنادید کا مقابلہ کرسکوں ورنہ میرے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی قطعاً طاقت نہیں۔ان میں سے بعض میرے اُستاد ہیں اور باقی ایسے ہیں جن کا انجمن کے مال اور محکموں پر قبضہ ہے اُس وقت ہمارے اندر اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اگر یہ لوگ ہمیں کہتے مسجد سے نکل جاؤ تو ہم اپنی مسجد میں بھی ٹھہر سکتے۔غرض میں نے خدا سے یہ دعا کی۔رات کو جب میں لیٹا تو مجھے الہام ہوا۔کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور چونکہ اِن لوگوں نے کہا تھا کہ جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور آج سے وہ تباہی و بربادی کے راستہ پر چل پڑے گی اس لئے خدا نے مجھے الہام کیا کہ لَيُمَزِ قَنَّهُمُ اے محمود! یہ لوگ جو اپنے علم اور اپنی طاقت اور اپنے جتھے اور اپنی دولت کے دعوے کر رہے ہیں ہم ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔چنانچہ میں نے اُسی وقت اس مضمون کا ایک اشتہار شائع کر دیا وہ اشتہار آج تک موجود ہے غیر بھی گواہی دے سکتے ہیں اور اپنے بھی کہ اُس میں جو کچھ لکھا گیا تھا وہ کس شان سے پورا ہوا۔میں نے اُس اشتہار کا ہیڈ نگ ہی یہ رکھا تھا کہ ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے " پھر میں نے کہا تھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ لَیمَزَ قَنَّهُمُ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔اُس وقت ہماری جماعت کا ۹۵ فیصدی حصہ ان کے ساتھ تھا اور پانچ فیصدی ہمارے ساتھ تھا اور وہ لوگ فخر کے ساتھ اس بات کو شائع کرتے تھے کہ ہم وہ ہیں جن کے ساتھ جماعت کی اکثریت ہے اور یہ بات ہمارے حق پر ہونے کا گھلا ثبوت ہے۔لیکن ابھی تین ہفتے اس الہام پر نہیں گزرے تھے کہ جماعت کے ۹۵ فی صدی حصہ نے میری بیعت کر لی اور پانچ فیصد ان کے ساتھ رہ گئے۔یہ خدا کا وہ نشان ہے جو اُس نے پورا کیا اور جس میں بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ خبر دی تھی کہ میرا ایک بیٹا ہوگا جو میرا خلیفہ ہوگا اور خدا اُس کی تائید کرے گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر میری تائید اور نصرت کرنی شروع کر دی۔میں نے بتایا ہے کہ میں نے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے