انوارالعلوم (جلد 17) — Page 146
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۴۶ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان کہ جماعت کا کوئی خلیفہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔لیکن جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور جماعت آپ کی وفات پر جمع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے جس کا یہ فیصلہ تھا کہ یہ پیشگوئی ضرور پوری ہو ایسے سامان کر دیئے کہ اِن لوگوں نے اس ڈر سے کہ کہیں جماعت اُس لڑکے کو ہی خلیفہ نہ بنا لے، جماعت کے ایمان کے خلاف یہ کہنا شروع کر دیا کہ خلافت ہی نہیں ہونی چاہئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب ان کے یہ خیالات جماعت کے سامنے آئے تو لوگوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ یہ کہتے کہ فلاں خلیفہ نہ ہو بلکہ فلاں ہو تو اور بات تھی مگر اب تو یہ کہتے ہیں کہ خلافت کا سلسلہ ہی جاری نہیں رہنا چاہئے اور یہ بات ہمارے اصول کے خلاف ہے اسے ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔چنانچہ اُس وقت جماعت نے اس لڑکے کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح وہ پیشگوئی جو حضرت مرزا صاحب نے ہوشیار پور سے شائع کی تھی کہ میرا ایک بیٹا ہوگا اور وہ میرا جانشین ہو گا بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔آپ لوگ جانتے ہیں میں اس وقت کس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ لڑکا میں ہی ہوں جو بارہ تیرہ سال تک خنازیر کے مرض میں مبتلا رہا۔میں ہی وہ ہوں جو مہینوں نہیں سالوں مدقوق ومسلول لوگوں کی طرح بیمار رہا جیسے ہماری زبان میں بعض لوگوں کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ وہ ہینگ لگتے ہیں۔میں ہی وہ ہوں جو نہایت کمزور ، ڈبلا اور نحیف تھا۔پھر میں ہی وہ ہوں جس کی آنکھوں میں تیرہ چودہ سال کی عمر میں شدید کرے ہو گئے اور میں پڑھائی کے ناقابل ہو گیا یہاں تک کہ میں بورڈ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔میں ہی وہ ہوں مڈل میں بھی فیل ہوا اور انٹرنس میں بھی۔اور میں ہی وہ ہوں جسے انگریزی کا ایک معمولی لفظ Two بھی نہیں لکھنا آتا تھا اور جس نے Two کی بجائے Tow لکھ دیا۔پھر میں ہی وہ ہوں جس کے خلاف جماعت کے بڑے بڑے لوگ کھڑے ہو گئے۔تمام محکموں پر ان کا قبضہ تھا ، مدرسہ ان کے پاس تھا، لنگر ان کے پاس تھا، ریویو ان کے پاس تھا ، جماعت کا انتظام ان کے ہاتھوں میں تھا ،خزانہ ان کے پاس تھا اور مختلف عہدے ان کو حاصل تھے۔پھر میں ہی وہ ہوں جو اپنا بھی مخالف تھا چنانچہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کے سامنے خود یہ تجویز پیش کی تھی کہ آپ خلافت کا انکار نہ کریں کسی ایک شخص کا نام پیش کر دیں میں سب سے پہلے اُس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو