انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 143

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۴۳ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان پیدا ہوا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہو گیا۔آپ نے اُس لڑکے کے متعلق کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اُس سے برکت حاصل کریں گی لیکن اُس لڑکے کے فوت ہونے پر لوگوں نے شور مچا دیا کہ جس لڑکے کے متعلق اتنے بڑے دعوے کئے گئے تھے، وہ زندہ ہی نہ رہا اور آخر یہ شور اتنا بڑھا کہ وہ جو آپ کے ساتھی تھے اُن میں سے بھی بعض اُس وقت آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔وہ لوگ آپ کے مرید نہ تھے صرف آپ سے ملنے والے اور آپ سے حسنِ عقیدت رکھنے والے تھے لیکن اس لڑکے کی وفات پر اُن کو بھی ابتلاء آ گیا اور وہ آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ایسے نازک حالات میں جب لوگوں کے لئے ایک ابتلاء کی سی حالت تھی اور جب اپنے بھی آپ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا میں یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تو لوگوں سے بیعت لے اور ایک سلسلۂ روحانی قائم کر۔لوگ ایسے ابتلاؤں کے وقت اس قد رگھبرا جاتے ہیں کہ اُن کے ہوش بھی ٹھکانے نہیں رہتے مگر چونکہ وہ موعود تھا اس لئے جب لوگ ہنس رہے تھے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ایسے خطرات اور انکار کے زمانہ میں اُس نے احمدیت کی بنیا درکھی اور لوگوں سے بیعت لینے کا اعلان فرما دیا۔یہ اعلان آپ نے ۱۸۸۸ء کے آخر میں فرمایا اور ۱۸۸۹ء میں پیشگوئی کے مطابق آپ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے تفاؤل کے طور پر ( کیونکہ آپ نے لکھا کہ ابھی مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے ) محمود رکھا کیونکہ اُس بیٹے کا ایک نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے محمود بتایا گیا تھا اور چونکہ الہام میں اُس کا ایک نام بشیر ثانی بھی رکھا گیا تھا اس لئے اُس کا پورا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا۔خدا کی قدرت ہے اتفاقاً اس لڑکے کی جو کھلائی مقرر کی گئی وہ شدید امراض میں مبتلا تھی۔ایسے شدید امراض میں کہ اس کے سات آٹھ بلکہ نو بچے کچھ بچپن میں اور کچھ بڑے ہو کر سل اور دِق سے مرگئے تھے۔اُس عورت نے بغیر اس کے کہ لڑکے کے والدین سے اجازت حاصل کرتی اِس کو دودھ پلا دیا۔عموماً اس قسم کی عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں چلی جاتی ہیں اور اس وجہ سے کہ بچہ انہیں جلدی واپس نہ لانا پڑے اُسے دودھ پلا دیتی ہیں۔اس عورت نے بھی بغیر اجازت کے اس لڑکے کو دودھ پلا