انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 142

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۴۲ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان یہ خبر ایسی زبردست ہے کہ کوئی شخص جو اپنے دل میں دیانت کا مادہ رکھتا ہو اس کے پورے ہونے سے انکار نہیں کر سکتا اور اُسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ خبر خدا کی طرف سے ہی تھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں تھا کہ وہ ایسی خبر دے سکتا۔اول تو کوئی کہ نہیں سکتا کہ وہ خود بھی زندہ رہے گا یا نہیں۔پھر اگر وہ زندہ بھی رہے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا۔پھر اگر بیٹا پیدا ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ضرور زندہ رہے گا اور لمبی عمر پائے گا۔پھر اگر وہ خود بھی زندہ رہے اور اُس کا بیٹا بھی زندہ رہے تو کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ کسی زمانہ میں اُسے اتنی عزت حاصل ہو جائے گی کہ اُس کے جانشین مقرر ہوا کریں گے۔پھر اگر کسی کو ایسی عزت مل بھی جائے کہ اُس کے جانشین مقرر ہوا کریں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اُس کا بیٹا ضرور جانشین ہوگا۔پھر اگر کسی کا بیٹا جانشین بھی ہو جائے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اُس سے برکت حاصل کریں گی۔غرض اس پیشگوئی پر جس قدر غور کیا جائے اُتنی ہی اس کی عظمت اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے اور انسان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کو پورا کرنا کسی انسان کی طاقت میں ہر گز نہیں تھا۔کون شخص ہے جو کہہ سکے کہ میں اتنا عرصہ ضرور زندہ رہوں گا۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ میرے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ بیٹا 9 سال کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ کسی زمانہ میں میں اتنی عظمت حاصل کرلوں گا کہ دنیا میں میرے جانشین مقرر ہوا کریں گے۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ میرا بیٹا ایک زمانے میں میرا خلیفہ اور جانشین ہو گا۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ میرے بیٹے کے زمانہ میں اسلام سارے جہان میں پھیل جائے گا اور اس کے دنیا پر غالب آجانے کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔یہ اتنے نشان ایک پیشگوئی میں جمع ہیں کہ کسی انسان میں طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنی طرف سے ایسی پیشگوئی کرسکتا اور پھر دنیا میں اعلان کر کے کہہ سکتا کہ یہ پیشگوئی ایک دن ضرور پوری ہو گیلیکن یہ پیشگوئی جو آج سے اٹھاون سال پہلے کی گئی تھی پوری ہوئی اور بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہوئی۔۱۸۸۶ء میں جب بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ پیشگوئی شائع کی اُس وقت آپ کا کوئی مرید نہ تھا۔آپ کی حیثیت ایک فردِ واحد کی سی تھی۔اس کے بعد ۱۸۸۷ء میں آپ کے ہاں ایک بیٹا