انوارالعلوم (جلد 17) — Page 128
انوار العلوم جلد کا ۱۲۸ کرنے کے بعد بھی جب آپ نے طاقت محسوس نہ کی تو فرمایا ابو بکڑ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔۶۲ غرض آپ نے اپنے صحابہ کی خاطر جس قدر قربانی ممکن تھی کی اور اُن کے جذبات اور احساسات کا ہر طرح خیال رکھا۔صحابہ کی دلداری کی کوشش اسی طرح ایک دفعہ جب آپ کو بخار چڑھا ہوا تھا اور الی حالت خراب تھی آپ سہارا لے کر قریب کی کھڑکی کے پاس گئے اور پردہ اُٹھا کر آپ نے صحابہ کو نماز پڑھتے دیکھا اور مسکرائے۔صحابہ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ قریب تھا بعض صحابہ خوشی میں اپنی نمازیں توڑ دیتے۔پھر آپ سہارا لے کر چار پائی پر لیٹ گئے۔اس کے بعد آپ کو اُٹھنے کا موقع نہیں ملا۔۶۳ دیکھو! یہ محبت کا کیسا شاندار نظارہ ہے۔اُس محبت کا جو ہمارے آقا کو اپنے خادموں اور غلاموں سے تھی۔حقیقت تو یہ ہے کہ غلام بھی اپنے آقاؤں کے لئے وہ قربانی نہیں کیا کرتے جو خود ہمارے آقا نے اپنے غلاموں کے لئے کی۔آپ کے انصاف کی ایک مثال میں نے پیچھے بیان کی ہے مگر ایک مثال میں نے عمداً چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ آپ کی وفات کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔اب جبکہ میں آپ کی وفات کے حالات بیان کر رہا ہوں اُس جذبۂ انصاف کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رسول کریم ﷺ کے اندر پایا جاتا تھا اور جس کا نمونہ آپ نے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں دکھایا۔جسم اطہر پر ایک صحابی کا بوسہ جب رسول کریم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا و آپ نے اپنے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا دیکھو! میں بھی انسان ہوں جیسے تم انسان ہو ممکن ہے مجھ سے تمہارے حقوق کے متعلق کبھی کوئی غلطی ہو گئی ہو اور میں نے تم میں سے کسی کو نقصان پہنچایا ہو اب بجائے اس کے کہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے ایسے رنگ میں پیش ہوں کہ تم مدعی بنو ، میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے کسی کو مجھے سے کوئی نقصان پہنچا ہو تو وہ اسی دنیا میں مجھ سے اپنے نقصان کی تلافی کرا لے۔صحابہ کو رسول کریم اللہ سے جو عشق تھا اُس کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول کریم ہے صيد صلى الله