انوارالعلوم (جلد 17) — Page 129
انوار العلوم جلد کا ۱۲۹ کے ان الفاظ سے اُن کے دل پر کتنی چھریاں چلی ہوں گی اور کس طرح اُن کے دل میں رقت طاری ہوئی ہو گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔صحابہ پر رقت طاری ہوگئی۔اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور اُن کیلئے بات کرنا مشکل ہو گیا۔مگر ایک صحابی اُٹھے اور انہوں نے کہا۔يَارَ سُولَ اللهِ ! جب آپ نے کہا ہے کہ اگر کسی کو میں نے کوئی نقصان پہنچایا ہو تو وہ مجھ سے اس کا بدلہ لے لے تو میں آپ سے ایک بدلہ لینا چاہتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں۔جلدی بتاؤ تمہیں مجھ سے کیا نقصان پہنچا ہے۔وہ صحابی کہنے لگے۔يَارَسُولَ اللَّهِ ! فلاں جنگ کے موقع پر آپ صفیں درست کروا رہے تھے کہ ایک صف سے گزر کر آپ کو آگے جانے کی ضرورت پیش آئی۔آپ جس وقت صف کو چیر کر آگے گئے تو آپ کی کہنی میری پیٹھ پر لگ گئی آج میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔صحابہ بیان کرتے ہیں اُس وقت غصہ میں ہماری تلوار میں میانوں سے باہر کل رہی تھیں اور ہماری آنکھوں سے خون ٹپکنے لگا اگر رسول کریم ﷺ اس وقت ہمارے سامنے موجود نہ ہوتے تو یقیناً ہم اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے مگر رسول کریم ﷺ نے اپنی پیٹھ اُس کی طرف موڑ دی اور فرمایا۔لو اپنا بدلہ لے لو اور مجھے بھی اُسی طرح کہنی مار لو۔اُس آدمی نے کہا۔يَارَسُولَ اللهِ ! ابھی نہیں۔جب آپ کی کہنی مجھے لگی تھی اُس وقت میری پیٹھ نگی تھی اور آپ کی پیٹھ پر کپڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا۔میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا دو کہ یہ شخص اپنا بدلہ مجھ سے لے لے۔جب صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھا دیا تو وہ صحابی کا نپتے ہوئے ہونٹوں اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ آگے بڑھا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگی پیٹھ پر محبت سے ایک بوسہ دیا اور کہا۔یَارَسُولَ اللَّهِ ! گجا بدلہ اور گجا یہ نا چیز غلام ! جس وقت حضور سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ شاید وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جس کے تصور سے بھی ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو میں نے چاہا کہ میرے ہونٹ ایک دفعہ اس با برکت جسم کو مکس کر لیں جسے خدا نے تمام برکتوں کا مجموعہ بنایا ہے۔پس میں نے اس کہنی لگنے کو اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کا ایک بہانہ بنایا اور میں نے چاہا کہ آخری دفعہ آپ کا بوسہ تو لے لوں۔۶۴