انوارالعلوم (جلد 17) — Page 115
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۱۵ جب یہ فرمایا کہ اگر میں یہ کہوں کہ مکہ کے دامن میں ایک بہت بڑا لشکر چھپا بیٹھا ہے اور وہ عنقریب تم پر حملہ کرنے والا ہے خود تم میں سے کوئی شخص اُس لشکر کو نہ دیکھے تو کیا تم میری اس بات کو جو بظا ہر بالکل ناممکن دکھائی دیتی ہے مان لو گے؟ انہوں نے کہا یقینا ہم آپ کی بات مان لیں گے کیونکہ آپ وہ ہیں جنہوں نے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہی بات ہے اور تمہیں میری سچائی پر اس قد راعتماد ہے تو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ مجھے خدا نے یہ کہہ کر تمہاری طرف بھیجا ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف بلاؤں۔اس پر لوگوں نے آپ کو جھوٹا کہنا شروع کر دیا۔۴۴ تو دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا معیار اتنا بلند تھا کہ آپ نے اپنی قوم کے سامنے ایک ایسی بات پیش کی جو کسی صورت میں بھی ممکن نہیں تھی۔آپ نے کہا اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ مکہ کے پاس ایک بہت بڑا لشکر چھپا بیٹھا ہے اور وہ تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری اس بات کو مان لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ہم ضرور آپ کی بات مان لیں گے۔بیشک اس لشکر کو ہم نہ دیکھیں، بے شک ہم میں سے ایک فرد بھی باوجود کوشش کے لشکر کو نہ دیکھ سکے لیکن چونکہ ہمیں آپ کی سچائی پر پورا یقین ہے اس لئے ہم اپنی آنکھوں کو جھوٹا کہہ لیں گے مگر آپ کو جھوٹا نہیں کہیں گے۔مگر باوجود اس کے انہوں نے آپ کے دعوی کو نہ مانا۔بہر حال اس سے اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ مکہ والوں نے سچائی کے معیار میں آپ کو ایسے عظیم الشان مقام پر دیکھا تھا کہ آپ خواہ کوئی بات کہیں اُس کا انکار اُن کے لئے بالکل ناممکن تھا۔میں نے بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جو جو خو بیاں پائی جاتی ہیں جب تک ہم اُن تمام خوبیوں کو اپنے اندر پیدا نہ کر لیں اور جب تک ہم اپنے اپنے دائرہ میں ایک چھوٹے محمد نہ بن جائیں اُس وقت تک ہم کبھی نجات نہیں پاسکتے۔اسی طرح ہمارے اندر جب تک ویسی ہی سچائی کی طاقت پیدا نہیں ہو جاتی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پائی جاتی تھی اُس وقت تک ہم کسی صورت میں بھی نجات اور خدا تعالیٰ کے فضل کے مستحق نہیں ہو سکتے۔صلى الله جھوٹ کے متعلق اُمت کو انتباہ رسول کریم ﷺ کو صداقت کا اس قدر خیال تھا کہ ابی بکرہ روایت کرتے ہیں۔آپ نے