انوارالعلوم (جلد 17) — Page 114
انوار العلوم جلد کا ۱۱۴ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نبوت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے نظام نو کا بیچ رکھ دیا تھا اور آپ کے اخلاق شروع سے ہی ایسے تھے جن پر آئندہ دنیا کا نیا نظام قائم ہونے والا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ میں ذرا تفصیل سے بعض مثالیں دیتا ہوں جن سے ظاہر ہوسکتا ہے کہ رسول کریم کے اخلاق فاضلہ کی بعض مثالیں صلی اللہ علیہ وسلم کسی قسم کے اخلاق فاضلہ دکھایا کرتے تھے۔سب سے پہلی بات جو اخلاق فاضلہ سے تعلق رکھتی ہے اور جو درحقیقت نہایت ہی اہم اور ضروری ہے وہ سچائی ہے۔سچائی کا بلند ترین معیار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے جس کے پاس کوئی اخلاقی کتاب نہیں تھی۔مگر ایسی قوم میں پیدا ہو کر سچائی کا جو اعلیٰ معیار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا وہ نہایت ہی حیرت انگیز ہے۔آپ میں سچائی ایسی اعلیٰ درجہ کی پائی جاتی تھی کہ قوم میں آپ کا نام ہی صادق مشہور ہو گیا تھا اور لوگ بجائے آپ کے نام سے آپ کو پکارنے کے آپ کو صادق کے نام سے پکارا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے وہ صادق ، وہ راست باز اور وہ سچا آدمی اس طرح کہتا ہے۔یہ خوبی آپ میں اس قدر غالب تھی کہ دنیا میں آپ کو جاننے والا کوئی شخص ایسا نہ تھا جو آپ کے صدق پر شبہ کر سکتا۔خواہ بظاہر آپ انہونی بات ہی کیوں نہ کہہ دیتے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ کھڑے ہوئے اور قوم کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا تم جانتے ہو میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔انہوں نے اقرار کیا اور کہا کہ یہ بالکل ٹھیک ہے آپ نے آج تک کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے میری قوم کے لوگو ! اگر میں تم سے یہ کہوں کہ ایک بڑ الشکر مکہ کے پاس پڑا ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری اس بات کو تسلیم کر لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم مان لیں گے حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ مکہ کے پاس کوئی لشکر چھپ ہی نہیں سکتا تھا۔وہاں اگر کوئی لشکر آئے تو ایک بچہ بھی اُسے دیکھ سکتا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے