انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 113

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۱۳ اسوه حسنه اخلاق فاضلہ اور علوم کو زندہ رکھنے کیلئے نئی نئی ایجادوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے اور وہ قو میں کبھی زندہ نہیں رہتیں جن میں نئے علوم اور ایجادات کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔ تَكْسِبُ الْمَعْدُومِ کے الفاظ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کا ذکر کیا گیا ہے یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ چیزیں جو دنیا والوں کو آج معلوم نہیں آپ اُن کو بھی دریافت کر کے دنیا میں پھیلا رہے ہیں ۔ گویا آپ کے ذریعہ دنیا میں ترقی اور ایجاد کا مادہ قائم ہے ۔ نظام نو کا قیام یہ پانچ چیزیں ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اہلی زندگی کو بلکہ بین الاقوامی تعلقات کو ہمیشہ کیلئے در کو ہمیشہ کیلئے درست کر دیا۔ جن کا راستہ کھولا ۔ جو کے کام میں کوئی روک تھی اُن کی روک کو دور کر کے آپ نے ملک میں کام کار م کا ۔ لوگ اپانچ یا کمانے کے نا قابل تھے اُن کے لئے معیشت کا پورا سامان جمع کیا اور پھر قوم میں آئندہ ترقی کا ہمیشہ کیلئے دروازہ کھول دیا۔ گویا یہ نظام نو ہو گیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم فرمایا ہے۔ یہ پانچوں اخلاق جب کسی قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں وہ آپس میں حسنِ سلوک سے کام لیتی ہے ، اپنے ہمسائیوں اور غیر ممالک والوں سے بھی حسنِ سلوک کرتی ہے، وہ ایسا انتظام بھی کرتی ہے جس کے ماتحت وہ لوگ جو کسی کام کے اہل نہ ہوں اُن کے لئے روزی کا سامان مہیا ہو جائے ، وہ ایسا انتظام بھی کرتی ہے جس کے ماتحت وہ لوگ جو اپنی کچھ روزی کما سکتے ہیں اور کچھ نہیں کما سکتے اُن کی پریشانی بھی دور ہو جائے اور اُن کی بقیہ ضرورتیں پوری ہو جائیں وہ تَكْسِبُ الْمَعْدُومِ پر بھی عمل کرتی اور ملک میں یونیورسٹیاں قائم کرتی ہے تا کہ علوم میں ترقی ہو، ملک کی صنعت و حرفت میں ترقی ہو اور لوگ ان درسگاہوں سے تعلیم حاصل کر کے جب باہر نکلیں تو وہ دینی اور دُنیوی علوم میں نئی نئی تحقیقات سے کام لیں ۔ وہ علم الاخلاق کو ترقی دیں ، وہ عِلْم الادیان کو ترقی دیں ، وہ عِلْمُ الأَبْدَان کو ترقی دیں ، وہ عِلْمُ الْحَيْوَانَات کو ترقی دیں ، وہ علم النفس کو ترقی دیں۔ غرض نئے نئے علوم پیدا کریں اور نئی نئی ایجادات ملک کی ترقی کے لئے کریں تو بتاؤ اس قوم کے لئے پھر اور کس چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ۔