انوارالعلوم (جلد 17) — Page 105
انوار العلوم جلد کا ۱۰۵ بیتاب ہو گئے ، آپ کی غیرت اس بات کو برداشت نہ کرسکی اور آپ نے صحابہ سے فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے۔انہوں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہو اللهُ أَعْلَى وَاَجَل ۳۹ ہمارا خدا ہی سب سے بڑا ہے۔ہما را خدا ہی سب سے بڑا ہے۔دیکھو! اس واقعہ میں کیسا عجیب تقابل پایا جاتا ہے۔سارے واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اس مقام کی نزاکت کا خوب احساس تھا۔آپ کو علم تھا کہ اگر دشمن کو اس بات کا پتہ لگا کہ ہم زندہ موجود ہیں تو ہماری جانوں کی خیر نہیں۔اسی وجہ سے وہ آپ کا نام لیتے تو آپ صحابہ کو چپ کرا دیتے اور فرماتے مت جواب دو۔ابو بکر کا نام لیتے ہیں تو آپ چپ کرا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں مت جواب دو۔عمرؓ کا نام لیتے ہیں تو چپ کرا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں مت جواب دو۔مگر اُسی حالت میں ، اُسی موقع پر اور انہی لمحات میں جب وہی زخمی صحابہ میدان میں موجود ہیں ، وہی دشمن کا تین ہزار کا لشکر سامنے پڑا ہے، جب کفار اپنے دیوتاؤں کا نام بلند کرتے ہیں تو آپ کصحابہ سے فرماتے ہیں بولتے کیوں نہیں؟ کہو اللہ أعْلَى وَاجَلُّ اللهُ اَعْلَیٰ وَاَجَلُ۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے جو غیرت تھی وہ دنیا میں اپنی کوئی مثال نہیں رکھتی۔مرض الموت میں تو حید کے متعلق دوسری مثال اس غیرت کی یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ فوت ہونے لگے تو سخت صلى الله آپ کی بے چینی اور اضطراب بیماری کی حالت میں آپ کروٹیں بدلتے ، کبھی دائیں طرف ہوتے اور کبھی بائیں طرف ہوتے اور فرماتے اللہ لعنت کرے یہود اور نصاری پر کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے آپ سمجھتے تھے کہ آپ کی موت اب قریب ہے اس لئے آپ بار بار یہ الفاظ فرماتے اور اس طرح صحابہ کو بتاتے کہ دیکھنا میری عظمت اور میری شان کو دیکھ کر کہیں میری طرف کوئی خدائی صفات منسوب نہ کر دینا۔خدا کی شان اور اُس کی عظمت اُس کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہود اور نصاری کی طرح تم میری طرف بھی کوئی خدائی صفت منسوب کر دو۔یہ کرب، یہ اضطراب اور یہ گھبراہٹ آپ کے اندر کیوں تھی؟ اسی لئے آپ کی غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کسی شخص کو خدا کا شریک