انوارالعلوم (جلد 17) — Page 104
انوار العلوم جلد کا ۱۰۴ آئے اور آپ کے خاندان کی بعض مستورات بھی وہاں پہنچ گئیں تو نیچے سے رسول کریم صلی اللہ نکالا گیا۔آپ اُس وقت بے ہوش تھے مگر تھوڑی دیر کے بعد آپ کو ہوش آ گیا۔وہ ایسے خطرے کا وقت تھا کہ مسلمانوں کے بچنے کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی۔دشمن کا تین ہزار سپاہی میدان میں صلى الله صلى الله موجود تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور چونکہ رسول کریم ﷺے بھی بے ہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے تھے اس لئے کفار نے یہ سمجھا کہ رسول کریم یہ بھی شہید ہو گئے ہیں۔اُس وقت ابوسفیان بہت خوش ہوا اور اُس نے بلند آواز سے کہا۔بتاؤ اب محمد کہاں ہے؟ صحابہ جواب دینا چاہتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو روک دیا۔اس پر اُس نے بڑے جوش سے کہا۔ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مار دیا ہے۔حضرت عمرؓ اُس وقت فوراً جواب دینے لگے کہ رسول کریم ﷺ زندہ ہیں مگر رسول کریم ﷺ نے انہیں جواب دینے سے روک دیا۔اور فرمایا کہ یہ مصلحت کے خلاف ہے، چپ رہو۔پھر اُس نے حضرت ابوبکر کا نام لیا اور کہا بتاؤ ابو بکر کہاں ہے؟ حضرت ابوبکر بولنا چاہتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مت بولے۔اس پر پھر اُس نے بڑے جوش سے کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا ہے۔پھر اُس نے پوچھا بتاؤ عمر کہاں ہے؟ حضرت عمرؓ کی زبان پر ابھی یہ الفاظ آنے ہی والے تھے کہ میں تمہارا سر توڑنے کے لئے موجود ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خاموش رہو، اس وقت بولنا مصلحت کے خلاف ہے۔پندرہ میں آدمی اس وقت موجود ہیں اور وہ بھی زخمی اور دشمن تین ہزار کی تعداد میں ہے اس وقت بولنا مناسب نہیں ہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔اِس پر اُس نے بڑے جوش سے کہا ہم نے محمد کو بھی مار دیا ، ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا ، ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔پھر اس خیال سے کہ آخر ہمارا دین ہی سچا نکلا اور مسلمانوں کا دین جھوٹا ثابت ہوا وہ بلند آواز سے کہنے لگا۔اُعْلُ هُبُل - مبل دیوتا کی شان بلند ہو، مبل دیوتا کی شان بلند ہو کہ ہم نے توحید پرستوں کو مار دیا۔اس پر وہی محمد رسول اللہ ﷺے جو ایک انتہائی خطرہ کے مقام پر کھڑے تھے جنہوں نے ابو بکر کو چپ کرا دیا تھا اور کہا تھا کہ مت کہوا بو بکر زندہ ہے۔جنہوں نے عمر کو چپ کرا دیا تھا اور کہا تھا کہ مت کہو عمر زندہ ہے۔جنہوں نے خود اپنے متعلق صحابہ کو جواب دینے سے منع کر دیا تھا اور کہا تھا مت کہو میں زندہ ہوں اس وقت بولنا مصلحت کے خلاف ہے۔وہ