انوارالعلوم (جلد 17) — Page 103
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۰۳ جذبہ غیرت کا اظہار پھر جس کے ساتھ انسان کو محبت ہوتی ہے اُس کے متعلق دل میں غیرت بھی پائی جاتی ہے اور درحقیقت غیرت علامت ہوتی ہے کامل تعلق کی۔رسول کریم ﷺ کی غیرت جس شان کی تھی اُس کی مثال ہمیں دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔اس غیرت کی ایک واضح مثال اُحد کا واقعہ ہے۔رسول کریم ﷺ نے اس جنگ میں کچھ آدمی ایک درہ پر مقرر کئے تھے اور اُن کو آپ نے یہ ہدایت دی تھی کہ تم نے اس درہ سے نہیں ہلنا۔جب اس جنگ میں کفار کو شکست ہوئی تو انہوں نے قیاس سے کام لیا اور کہا رسول کریم علیہ کا منشا آخر ہمیں یہاں کھڑا کرنے سے یہی تھا کہ ہم جنگ ختم ہونے تک کھڑے رہیں۔اب جبکہ کفار کو شکست ہو چکی ہے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی ہے ہم یہاں کیوں ٹھہریں۔چنانچہ وہ بھی وہاں سے چل پڑے اور درّہ خالی ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید اُس وقت تک کافر تھے اور عکرمہ بن ابو جہل بھی کافر تھے اور یہ دونوں اپنی فوجوں کے جرنیل تھے۔انہوں نے عمرو بن العاص کو کہ وہ بھی اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا فوج لیکر اس طرف سے حملہ کر دو۔چنانچہ یہ حملہ آور ہو گئے۔وہاں چند مسلمان جو اس وجہ سے رہ گئے تھے کہ رسول کریم ﷺ کا حکم ہمیں یہی تھا کہ ہم یہاں سے نہ ہمیں ، اُن کو انہوں نے مار ڈالا اور جب مسلمان اپنی فتح کے یقین کے ساتھ ادھر اُدھر پھیل چکے تھے اور اسلامی صفیں پراگندہ تھیں، انہوں نے یکدم پیچھے سے حملہ کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے مسلمان مارے گئے ، بہت سے زخمی ہوئے اور بعض لوگ بھاگ نکلے۔یہاں تک کہ اُن میں سے بعض بھاگ کر مدینہ میں جا پہنچے۔اس جنگ میں ایک وقت ایسا آیا جب صرف ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گیا۔اور کسی وقت چھ کسی وقت سات اور کسی وقت بارہ آدمی رسول کریم ﷺ کے اردگرد رہ گئے ، باقی سب منتشر ہو گئے تھے۔اُس وقت کفار نے یہ دیکھ کر کہ اب رسول کریم علیہ اپنے لشکر سے الگ ہیں اُن پر پتھر پھینکنے اور تیر برسانے شروع کر دیئے اور اس قدر تیر برسائے کہ آپ بیہوش ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے اور پھر حفاظت کرنے والے صحابہ ایک ایک کر کے آپ پر گرنے شروع ہو گئے۔یہاں تک کہ آپ کے جسم پر کئی صحابہ کی لاشیں آپڑیں اور عام طور پر یہی سمجھا گیا کہ شاید رسول کریم ﷺ بھی شہید ہو گئے ہیں۔کچھ دیر کے بعد جب مسلمان واپس الله صلى الله