انوارالعلوم (جلد 17) — Page 94
۹۴ انوار العلوم جلد ۱۷ تتر بتر ہو گیا۔یہ مصیبت یہاں تک بڑھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے ، باقی سب میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔یہ دیکھ کر حضرت عباس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا۔اب ٹھہرنے کا وقت نہیں گھوڑے کی باگ پھیریں اور واپس چلیں تا کہ اسلامی فوج کو دوبارہ جمع کر کے حملہ کیا جائے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے نبی میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں موڑا کرتے۔یہ کہ کر آپ نے گھوڑے کی باگ اُٹھائی اور اُسے ایڈ لگا کر اور بھی آگے بڑھا دیا اور فرمایا:۔ی لَا كَذِبُ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّ میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں اور میں جو آج اِن تیراندازوں سے نہیں ڈرا اور چار ہزار تیراندازوں کے نرغہ میں گھرے ہونے کے باوجود آگے ہی بڑھتا چلا جا رہا ہوں تو اس نظارہ کو دیکھ کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ میں خدا ہوں یا مجھ میں بھی خدائی صفات پائی جاتی ہیں یا درکھو! میں خدا نہیں ، میں تو وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔مگر یہ لوگ خدا نما وجود ہوتے ہیں جب یہ حالت پیدا ہوئی اور دشمن خوش ہوا کہ اُس نے مسلمانوں کو مار لیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو مخاطب کر کے فرمایا۔عباس! آواز دو کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے صحابہؓ کا جوش اخلاص جب حضرت عباس نے بلند آواز سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ دُہرایا کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے تو اُس وقت ایک انصاری کا بیان ہے کہ حالت یہ تھی کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ ہمارے قبضہ سے نکلے جا رہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ مکہ اور مدینہ کے ورے یہ نہیں رکیں گے۔وہ بوجہ مکہ کے ہزاروں لوگوں کے بھاگنے کے اس قدر ڈر گئے تھے کہ کسی طرح واپس لوٹتے ہی نہ تھے۔ہم اپنی سواریوں کی باگیں کھینچتے اور اس قدر زور لگاتے کہ اُن کا منہ اُن کی دُم کو آ لگتا ، مگر بجائے واپس لوٹنے کے وہ پیچھے کی طرف ہی بھا گئیں۔ہماری یہی حالت تھی کہ ہمارے کانوں میں حضرت عباس کی یہ گونجنے والی آواز آئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔وہ کہتے