انوارالعلوم (جلد 17) — Page 88
انوار العلوم جلد ۱۷ VV اسوه حسنه علیہ اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی سکینت نازل کی۔ اتنے یقین کامل سے بھرے ہوئے ہونے کے بعد اُن کا دل تسلی سے کس طرح خالی ہو سکتا تھا اور پھر وجہ کیا ہے کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا کہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ فَانزَلَ الله سكينته عليه یہ دھوکا در حقیقت اسی وجہ سے لگا ہے کہ انہوں نے ضمائر کو نہیں سمجھا۔ بات اصل میں یہ ہے کہ آنزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ ہے اور علیم کی ضمیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں بلکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پھرتی ہے یعنی اَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ۔ جب محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ ابو بکر اغم مت کر خدا ہمارے ساتھ ہے تو ابو بکر کا دل تسلی پا گیا۔ وَأَيَّدَة بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا اِس میں ، کی ضمیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے لشکروں کے ساتھ مدد کی جن کو کا فر دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ اِس سے مراد فرشتوں کا وہ لشکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کے لئے بھیجا جب وہ کا فر فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے تھے تو جو شخص فرشتوں کی فوج کے پیچھے کھڑا تھا اُسے کس طرح دیکھ سکتے تھے ۔ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اُن کو ذلیل کر دیا اور خدا تعالیٰ کی بات اونچی ہوگئی ۔ یہاں ایک عجیب بات بیان کی گئی ہے۔ اُس وقت واقعہ یہ تھا کہ کافر او پر تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تھے۔ طریق یہی ہے کہ اوپر والے سے نیچے والا ما رکھاتا ہے۔ جو شخص پہاڑی پر کھڑا ہو وہ پتھر پھینک پھینک کر ہی اپنے دشمن کو ہلاک کر سکتا ہے۔ لیکن نیچے کھڑا ہونے والا اگر پتھر اُسے مارنے کیلئے پھینکے گا بھی تو سو ڈیڑھ سو گز تک رہ جائے گا اور غالب او پر والا ہی آئے گا لیکن فرماتا ہے باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت نیچے تھے اور کافر او پر اور ان کے لئے موقع تھا کہ وہ جھانکتے ، دیکھتے اور پتہ لگاتے کہ اندر کوئی چھپا ہوا تو نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید نے یہ کرشمہ دکھایا کہ جو اونچا تھا وہ نیچا ہو گیا اور جو نیچے تھا وہ اوپر ہو گیا ۔ جو غالب تھا وہ مغلوب ہو گیا اور جو مغلوب تھا وہ غالب ہو گیا۔