انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 76

انوار العلوم جلد ۱۷ ۷۶ اسوه حسنه جب مرنے کے بعد حجاب اُٹھ جائے گا اور اُسے پتہ لگے گا کہ میں روحانی لحاظ سے اندھا ہوں ، تب وہ اپنے دل میں ایک شدید دکھ محسوس کرے گا اور اسی کا نام دوزخ ہے۔ بیشک دوزخ کے عذاب کی مختلف شکلیں بھی ہوں گی لیکن اصل دوزخ اُس کے دل کا یہی احساس ہوگا کہ میں خدا تعالیٰ سے دور ہوں اور میرے اندر وہ اعلیٰ صفات نہیں ہیں جن سے میری خدا تعالیٰ سے مشابہت ہو سکے تب اُسے عذاب شروع ہو جائے گا اور رات اور دن وہ اس عذاب میں مبتلا رہے گا۔ آخرت میں آگ کے عذاب سے بھی میں مانتا ہوں کہ وہاں آگ کا عذاب بھی ہو گا لیکن پھر بھی اُس سخت تر عذاب خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہے آگ کے عذاب سے بھی سخت تر عذاب یہ ہوگا کہ اُسے اس بات کا احساس ہوگا کہ میرا خدا مجھ سے ناراض ہے ۔ ہم نے دنیا میں بارہا یہ نظارہ دیکھا ہے کہ بعض دفعہ بچہ روٹھ جاتا ہے ، بعض دفعہ بیوی سے ناراضگی ہو جاتی ہے ، بعض دفعہ دوست سے کسی بات پر شکایت پیدا ہو جاتی ہے ایسی صورت میں ہر شخص جانتا ہے کہ یہ تکلیف کتنی شدید ہوتی ہے اور کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ یہ عذاب آگ کے عذاب سے کم ہوتا ہے ۔ ہم نے تو دیکھا ہے یہ عذاب بعض دفعہ اتنا محسوس ہوتا ہے کہ ہزاروں دُکھوں سے بڑھ کر اس کی تپش انسان کو جلا رہی ہوتی ہے اور جب تک ہمارا محبوب ہم سے راضی نہیں ہو جاتا اگر ہم روٹی کھاتے ہیں تو وہ ہمارے حلق سے نیچے نہیں اُترتی ، پانی پیتے ہیں تو اُچھو ہونے لگتا ہے ، سوتے ہیں تو نیند نہیں آتی ، سوچتے ہیں تو پاگلوں کی طرح ہماری سمجھ میں کوئی بات ہی نہیں آتی ، دل جو ہماری طاقت کا موجب ہوتا ہے وہ دھڑ دھڑ کر رہا ہوتا ہے ، پیر جن سے ہم چلتے ہیں وہ کانپ رہے ہوتے ہیں ، ہاتھ جن میں پکڑنے کی طاقت ہوتی ہے وہ شکل ہو کر رہ جاتے ہیں ، آنکھیں جن سے ہم ساری دنیا کا حُسن دیکھتے ہیں انہی آنکھوں سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں ساری چیزیں پھیکی پھیکی نظر آتی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چاروں طرف اُداسی ہے۔ ی چھائی ہوئی ہے ۔ دنیا میں ہر شخص کو کسی نہ کسی سے خاص انس ہوتا ہے ۔ کسی کو بیوی سے ہوتا ہے ، کسی کو ماں سے ہوتا ہے، کسی کو باپ سے ہوتا ہے اور ہر شخص کو اپنے اپنے دائرہ میں یہ تمام کیفیتیں اُس وقت معلوم ہو جاتی ہیں جب اُس کا محبوب اُس سے