انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 67

انوار العلوم جلد ۷ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گزشتہ انبیاء کی تعلیموں کا سوال تو اس طرح حل کر دیا۔اب سوال ہو سکتا تھا کہ ہم اُن انبیاء متابعت کی عظیم الشان برکات کا نمونہ کہاں تلاش کریں۔سو اس سوال کا حل بھی قرآن کریم نے پیش کر دیا کہ بالکل آسان بات ہے تم محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی نقل کرو۔تمام انبیاء کا نمونہ اسی میں آ جائے گا جیسا کہ هُوَ سَمَّكُمُ المُسلمين : مِن قَبْلُ وَ فِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُونُوا شُهَدَاء على الناس والی آیت سے تفصیل کے ساتھ یہ امر بیان کیا جائے جا چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے اعمال پر جب ہم نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا عمل وہی کچھ تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔حضرت عائشہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ تو آپ نے فرمایا۔تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو گانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ۔آپ کے اخلاق وہی کچھ تھے جن کا قرآن میں ذکر آتا ہے۔گو یا محمد رسول اللہ ﷺ کا عمل اور قرآن کریم کی بات ایک ہی تھی۔جو کچھ قرآن میں لکھا تھا سمجھ لو کہ رسول کریم ﷺے ویسا ہی کیا کرتے تھے اور جو کچھ رسول کریم ﷺہ کیا کرتے تھے سمجھ لو کہ اُس کا حکم قرآن کریم میں ضرور موجود ہوگا۔پس تمام انبیاء کی نقل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات دے دی۔جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کر لیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کا انعکاس اپنے آئینہ قلب میں پیدا کر لیتے ہیں۔احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھتے تھے وہی کچھ خود کر نے لگ جاتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہی کام ہمیں کرنے چاہیں۔پس اگر ہم بھی اپنے اخلاق کو درست کرنا چاہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کوئی نمونہ اپنے سامنے رکھیں اور وہ نمونہ جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کا ہے۔اخلاق کے معنی اخلاق کے معنی کیا ہیں؟ اخلاق در حقیقت صفات الہیہ کے اُس ظہور کا نام ہے جو بندے کی طرف سے ہو۔پس ہم جب اللہ تعالیٰ کی صفات کی صلى الله