انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 598

۵۹۸ الموعود انوار العلوم جلد ۱۷ غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں سنیں۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ پھر یہ نہیں کہ میری دعاؤں کی قبولیت کے صرف احمدی گواہ ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں عیسائی ، ہزاروں ہندو اور ہزاروں غیر احمدی بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق میری دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور اُن کی مشکلات کو دُور کیا۔”الفضل میں بھی ایسے بیسیوں خطوط وقتاً فوقتاً چھپتے رہتے ہیں کہ کس طرح مخالف حالات میں لوگوں نے مجھے دعاؤں کے لئے لکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُن کی مشکلات کو دُور کر دیا۔اس معاملہ میں بھی میں نے بار بار چیلنج دیا ہے کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو وہ دعاؤں کی قبولیت کے سلسلہ میں ہی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔مگر کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس رنگ میں دنیا کو مقابلہ کا چیلنج دے چکے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔” میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہو وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے۔جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں۔یعنی اس طرح پر کہ دو خطر ناک بیمار لے کر جو جُدا جُدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کے لئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اُس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔۴۲ یہ چیلنج میری طرف سے بھی ہے اگر لوگ اس معاملہ میں میری دعاؤں کی قبولیت کو دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بعض سخت مریض قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کر لیں اور پھر دیکھیں کہ کون ہے جس کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے۔کس کے مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کے مریض اچھے نہیں ہوتے۔ے۔ساتویں اُس کا نام یوسف رکھا گیا تھا اور یوسف کا واقعہ بھی یوسف ثانی کی خبر ہی ہے کہ اس کے بڑے بھائیوں نے اسے کم کر دیا اور پھر باپ لو کہنے لگے کہ اب وہ نہیں ملتا تم اُس کی یاد میں مر جاؤ گے لیکن اُسے نہ پاؤ گے اسی طرح میرے