انوارالعلوم (جلد 17) — Page 553
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۵۳ الموعود میں ہی مجھے خبر دی تھی۔لَيُمَزِ قَنَّهُمُ۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔چنانچہ یہ الہام اُسی وقت میں نے اُس ٹریکٹ میں شائع کر دیا تھا جس کا نام ہے کون ہے جو خدا کے کام روک سکے۔یہ الہام بھی پورا ہوا، یہاں تک کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو ۹۵ فیصدی کہا کرتے تھے اُن کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ وہ واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیں۔اُن میں اتنے شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور آپس میں ایسی ایسی سخت مخالفتیں ہوئیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی اس الہام کی صداقت کا اقرار کیا۔خواجہ صاحب میرے اُستاد تھے کیونکہ انہوں نے سکول میں مجھے دو دن پڑھایا تھا۔اُن کے متعلق یہ روایت ہے جو اُن کے بعض واقفوں نے مجھے پہنچائی کہ وہ اپنی وفات سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ میاں محمود کی کوئی اور بات سچی ہو یا نہ ہومگر اُن کا یہ الہام تو پورا ہو گیا ہے کہ لیمز قَنَّهُمُ اور ہم واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔اس الہام سے پہلے مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی یہ حالت تھی کہ وہ دانت کاٹی روٹی کھایا کرتے تھے۔مگر جب وہ میرے مقابل میں کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس الہام کے مطابق اُن میں ایسا تفرقہ پیدا کر دیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا گیا اور اُن کی اور مولوی محمد علی صاحب کی آپس میں شدید مخالفت ہو گئی۔اسی طرح ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے ایک دفعہ احمد یہ مسجد میں کھڑے ہو کر یہ الفاظ کہے کہ ایسا ایسا آدمی یہاں آئے تو سہی میں اُس کی ٹانگیں نہ توڑ ڈوں اور اِس سے اُن کی مراد مولوی محمد علی صاحب تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب سے بھی اُن کی مخالفت ہوئی اور وہ اس قدر بیزار ہوئے کہ اُنہوں نے اپنی وفات سے پہلے مجھے کہلا بھیجا کہ میرے ارد گر دسخت اندھیرا ہے اور میں اپنے خیالات کا پورے طور پر اظہار نہیں کر سکتا۔آپ میری طرف اپنا کوئی آدمی بھیجیں، میں اُس کے ذریعہ آپ تک بعض باتیں پہنچانا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر کو خط دے کر لاہور بھیجا مگر اُس وقت بیماری کی وجہ سے اُن کے تمام رشتہ دار ا کٹھے تھے وہ کوئی گفتگو نہ کر سکے۔گزشتہ جنگ عظیم کے متعلق رویا (۳) تیسرے گزشتہ جنگ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت جبکہ اٹلی اور ٹرکی