انوارالعلوم (جلد 17) — Page 547
انوار العلوم جلد ۷ ۵۴۷ الموعود مبائعین کے مقابلہ میں (۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی جبکہ خلافت کا کوئی سوال بھی ذہن غیر مبائعین کی ناکامی کی خبر میں پیدا نہیں ہوسکتا تھا مجھے اللہ تعالی کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ یعنی وہ لوگ جو تجھ پر ایمان لائیں گے اُن لوگوں پر جو تیرے مخالف ہوں گے قیامت تک غالب رہیں گے۔یہ الہام میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سُنایا اور آپ نے اسے لکھ لیا۔یہ وہی آیت ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتی ہے مگر وہاں الفاظ یہ ہیں۔وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - ٣٦ کہ میں تیرے منکروں پر تیرے مومنوں کو قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔مگر مجھے جو الہام ہوا وہ یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - جو پہلے سے زیادہ تاکیدی ہے یعنی میں اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں یقیناً تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔یہ الہام جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سُنایا اور آپ نے اسے لکھ لیا۔میں عرصہ دراز سے یہ الہام دوستوں کو سنا تا چلا آ رہا ہوں۔اس کے نتیجہ میں دیکھو کہ کس کس طرح میری مخالفت ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح دی۔غیر مبائعین نے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہ کہہ کہہ کر کہ ایک بچہ ہے جس کی خاطر جماعت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پراپیگنڈہ کیا مگر بالکل بے اثر ثابت ہوا۔میں ان باتوں سے اُس وقت اتنا نا واقف تھا کہ ایک دن صبح کی نماز کے وقت میں حضرت اماں جان کے کمرہ میں جو مسجد کے بالکل ساتھ ہے نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ مسجد میں سے مجھے لوگوں کی اونچی اونچی آوازیں آنی شروع ہو گئیں جیسے کسی بات پر وہ جھگڑ رہے ہوں۔اُن میں سے ایک آواز جسے میں نے پہچانا وہ شیخ رحمت اللہ صاحب کی تھی۔میں نے سُنا کہ وہ بڑے جوش سے یہ کہہ رہے ہیں کہ تقومی کرنا چاہئے ، خدا کا خوف اپنے دل میں پیدا کرنا چاہئے ایک بچہ کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے ، ایک بچہ کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جا رہا ہے۔میں اُس وقت اِن باتوں سے اس قدر نا واقف تھا کہ مجھے اُن کی یہ بات سُن کر سخت 66