انوارالعلوم (جلد 17) — Page 519
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۹ الموعود اس کیلئے الہام کی ضرورت نہیں تو پھر دعوی کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہاں تک کہ جنوری ۱۹۴۴ء کے دوسرے ہفتہ میں مجھے ایک رؤیا ہوا۔پہلے میں نے کہا تھا کہ یہ رویا غالباً پانچ اور چھ ( جنوری ) کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رویا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہوا۔کیونکہ یہ رویا میں نے اپنی بیوی مریم صدیقہ کے ہسپتال جانے کے بعد دیکھا تھا اور مریم صدیقہ کا آپریشن لاہور میں جمعہ کے جنوری کو ہوا تھا اور اُس دن وہ ہسپتال میں داخل ہو چکی تھیں۔پس یہ رویا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہوا۔اُس رات وہ میرے کمرہ میں نہیں تھیں بلکہ آپریشن کے لئے ہسپتال میں داخل تھیں۔یہ رویا میں نے دوسرے ہی دن چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو سُنا دیا تھا اور اس کے ایک دن بعد اُن کے برادر نسبتی کا ولیمہ تھا جو معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو تھا۔بہر حال یہ رویا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو میں نے دیکھا۔یہ رویا میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں مگر اس موقع پر میں وہ رؤیا ایک بار پھر دوستوں کو سُنا دیتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہورہی ہے۔وہاں کچھ عمارتیں ہیں نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یاٹر نچز (TRENCHES) ہیں۔بہر حال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونہی مجھے اُن سے تعلق ہے، میں اُن کے پاس ہوں اتنے میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اُس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں برسر پیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اُس نے اُس مقام پر حملہ کر دیا ہے اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اُس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی ، اس کا مجھے اُس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔بہر حال وہاں جو فوج تھی اُس کو جرمنوں سے دینا پڑا اور اُس مقام کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جرمن اُس عمارت میں داخل ہو گئے جس میں میں تھا۔تب میں خواب میں کہتا ہوں دشمن کی جگہ پر رہنا درست نہیں اور یہ مناسب نہیں کہ اب اس جگہ ٹھہرا جائے ، یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہئے۔اُس وقت