انوارالعلوم (جلد 17) — Page 518
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۸ الموعود فرمائی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے بعض اور افراد کے متعلق بھی پیشگوئی فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ تمام افراد مل کر ثریا سے ایمان واپس لائیں گے۔اب اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے تین سو سال کے بعد پوری ہوگی اور دوسرا رجل آئندہ کسی اور زمانہ میں آئے گا تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ مسیح موعود کے ذریعہ پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہونے کے بعد پھر ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا اور پھر بشیر ثانی اُس کو آسمان سے واپس لائے گا حالانکہ خود مولوی محمد علی صاحب کا بھی یہ عقیدہ نہیں۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ تین سو سال تک یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا درمیان میں کوئی گمراہی اور ضلالت کا دور نہیں آئے گا اور جبکہ یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا تو انتہائی ترقی کے دور میں مصلح موعود کا آنا بے معنی ہو جاتا ہے۔مصلح موعود تین سو سال کے بعد اسی صورت میں آ سکتا ہے جب مسیح موعود کے ذریعہ پہلے ہدایت کا بیج بویا جائے ، پھر گمراہی اور ضلالت کا دور آ جائے اور پھر ایک فارسی الاصل انسان ایمان کو ثریا سے واپس لائے۔حالانکہ غیر مبائعین بھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ تین سو سال تک ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا۔بہر حال مصلح موعود کا زمانہ مسیح موعود میں ہی ظاہر ہونا ضروری تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور آپ کی تشریحات سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا۔ایک عظیم الشان رویا اس پیشگوئی کو جماعت کے کئی افراد مجھ پر چسپاں کیا کرتے تھے : مگر میں سنجیدگی سے کبھی اس مسئلہ پر غور نہیں کرتا تھا ، کیونکہ جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے میں سمجھتا تھا اگر اس پیشگوئی کے مصداق کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ الہام الہی سے دعوی کرے تو مجھے اپنی طرف سے اس دعویٰ کی ضرورت نہیں۔اگر خدا میری زبان سے اس کے متعلق کوئی اعلان کرانا چاہے گا تو وہ خود کرا لے گا اور اگر اس کے مصداق کے لئے کسی الہام کی ضرورت نہیں تو مجھے بھی کسی دعوی کی ضرورت نہیں۔بہر حال یہ ایک پیشگوئی ہے جس پر غور کر کے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں۔اگر اس کے لئے الہام کی ضرورت ہے تو میں بغیر الہام کے دعوی کر کے کیوں گنہ گار بنوں۔جسے الہام ہو گا وہ خود دعوی کر دے گا اور اگر