انوارالعلوم (جلد 17) — Page 461
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۶۱ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) ایک جزیزہ سے ایک جہاز ہندوستان کی طرف آ رہا تھا کہ چا پانی آب دوز نے تارپیڈو مارکر غرق کر دیا تمام مسافر سوائے تین کے ڈوب گئے۔یہ تینوں بمبئی پہنچے وہاں پہنچ کر دو مر گئے اور ایک بیچا۔اسے ایک احمدی دوست مل گئے جب اِس نوجوان نے اپنے حالات جہاز کی غرقابی اور مصائب اُٹھا کر بمبئی پہنچنے کے واقعات بیان کئے تو اُس احمدی دوست نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کے نتیجہ میں دُنیا پر عذاب آ رہے ہیں۔اس نوجوان نے پوچھا کہ مسیح موعود کون ہیں؟ اور اس طرح اس احمدی کو موقع مل گیا کہ اسے تبلیغ کرے چنانچہ اب وہ نو جوان یہاں پہنچ گیا ہوا ہے۔یہ نوجوان اپنے جزیزہ کے سلطان کے وزیر کا لڑکا ہے۔بعد میں وہاں سے کچھ اور لوگ ہندوستان آئے ہیں یہ اطلاع ملی ہے اس نوجوان کے متعلق وہاں یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو اس طرح اللہ تعالی تبلیغ کے نئے نئے راستے کھول رہا ہے اور سامان وسیع کر رہا ہے۔دیہاتی مبلغ اس سال پندرہ دیہاتی مبلغ تیار کئے گئے ہیں ان کو قرآن کریم کا ترجمہ، موٹے موٹے دینی مسائل اور طب وغیرہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ان کے علاقے بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں۔تین ضلع سیالکوٹ میں، تین ضلع گورداسپور، دو ضلع لاہور ، دو ضلع سرگودھا ، ایک ضلع ملتان ، ایک ضلع کرنال ، ایک ضلع امرتسر اور دو ضلع گوجرانوالہ میں لگائے گئے ہیں یہ سکیم میں پہلے شائع کر چکا ہوں۔میرا منشاء یہ ہے کہ دس پندرہ یا میں دیہات کے لئے ایک مبلغ مقرر کیا جائے۔یوں تو بہت سے دیہاتی مبلغین کی ضرورت ہے اگر صرف ان مقامات پر ہی دیہاتی مبلغ رکھے جائیں جہاں جماعتیں ہیں تو بھی آٹھ سو جماعتیں ہیں۔اگر ہر دیہاتی مبلغ کا حلقہ چار چار جماعتوں پر پھیلا ہوا ہو تو بھی دوسو دیہاتی مبلغ درکار ہوں گے۔لیکن اگر دوسو دیہاتی مبلغ بھی مہیا کئے جائیں تو اُن پر سوا لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔اگر ہر مبلغ کا خرچ پچاس روپیہ بھی سمجھ لیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے دس ہزار روپیہ ماہوار۔یعنی ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ سالانہ۔مگر ابھی ہم اتنا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ فی الحال پچاس تیار کئے جائیں۔اس کے لئے بھی بیس سے تیس سال تک کی عمر کے نوجوان جن کی تعلیم مڈل کے درجہ تک ہو اپنے نام پیش کریں۔چالیس سال تک کی عمر کے وہ لوگ بھی لئے