انوارالعلوم (جلد 17) — Page 459
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۵۹ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) ہزاروں طالب علم تعلیم پا رہے ہیں اور ایسی کامیابی سے تبلیغ ہو رہی ہے کہ ہزاروں لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔وہاں جماعت کی ترقی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک کانفرنس میں تین ہزار نمائندے شریک ہوئے تھے۔صرف ایک ملک میں مردم شماری کرائی تو تعداد ۲۵ ہزار تھی۔بعض علاقوں میں تو یہ حالت ہے کہ امراء شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری طرف تبلیغ کیوں نہیں کرتے۔ایک چیف کی بہت خواہش تھی کہ کوئی احمدی مبلغ اُس کی ریاست میں آئے وہ دو سال انتظار کرتا رہا مگر کوئی نہ جا سکا اب وہ فوت ہو چکا ہے۔تو وہاں لوگوں کے دلوں میں تڑپ پائی جاتی ہے کہ ہماری باتیں سنیں مگر ہمارے مبلغ اُن تک پہنچ نہیں سکتے۔وہاں تبلیغ میں بعض مشکلات بھی ہیں وہاں نئے نئے قوانیں رائج ہیں مثلاً عدالت میں بیان دیتے وقت ایک سٹول پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانی پڑتی ہے۔احمدیوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ایک زندہ خدا کے ماننے والے ہیں اور اُس کے سوا کسی کی قسم نہیں کھا سکتے۔ان کے ساتھ سختیاں بھی کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پرانے قانون کو احمدیوں کے لئے تو ڑا نہیں جا سکتا اور جو احمدی انکار کرتا اُسے جیل بھیج دیا جاتا۔مگر احمدی دلیری سے جیل میں جانے لگے اور اب حکومت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ احمدیوں کو خدا کی قسم کھانے کی اجازت ہے۔جیسا کہ کئی احباب نے دیکھا ہوگا نیر صاحب ان علاقوں کے لوگوں کی تصویر میں دکھایا کرتے ہیں۔پہلے وہاں ہزاروں لوگ ننگے پھرا کرتے تھے مگر اب وہ کپڑے پہننے لگے ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ہمارے سیرالیون کے مبلغ واپس آرہے ہیں۔حیفا سے اُن کا تار آیا ہے کہ ویز ا چونکہ جلدی نہیں مل سکا اس لئے جلسہ سالانہ پر نہیں پہنچ سکا۔اب وہ عراق کی طرف روانہ ہو گئے ہیں وہ جلسہ پر نہیں پہنچ سکے ورنہ میں چاہتا تھا کہ وہ خود اپنی مشکلات پیش کرتے۔وہاں تبلیغ کا میدان بہت وسیع ہے اور درجنوں مبلغ ہوں تو کام دے سکتے ہیں۔چھ چھ ماہ کے بعد ان مبلغوں کا خرچ مقامی لوگ برداشت کر سکتے ہیں وہاں بہت سے افریقن مبلغ بھی کام کرتے ہیں۔کچھ دن ہوئے مجھے ایک مقامی مبلغ کا خط آیا تھا اُس نے لکھا تھا کہ :۔مولوی نذیر احمد صاحب کے کام کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی مولوی نذیر احمد صاحب ہوتی ہے وہ بہت جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔یہاں