انوارالعلوم (جلد 17) — Page 354
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۵۴ میری مریم اپنے آپ کو ، بھول جاتیں کھانے پینے کو بھول جاتیں اپنے بچوں کو بلکہ بھول جاتی تھیں مجھ کو بھی اور صرف انہیں وہ کام ہی یا درہ جاتا تھا اور اس کے بعد جب کام ختم ہو جاتا تو وہ ہوتیں یا گرم پانی کی بوتلیں جن میں لپٹی ہوئی وہ اس طرح اپنے درد کرنے والے جسم اور متورم پیٹ کو چاروں طرف سے ڈھانپے ہوئے لیٹ جاتیں کہ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ یہ عورت ابھی کوئی بڑا آپریشن کروا کر ہسپتال سے آئی ہے۔اور وہ کام ان کے بیمار جسم کے لئے واقعہ میں بڑا آپریشن ہوتا تھا۔دیگر صفات لذت حاصل کرنے کا مادہ مریم میں غضب کا تھا۔ایک مردہ دل کو زندہ دل بنا دیتی تھیں۔گھوڑے کی سواری کی بے انتہا شوقین تھیں ، بندوق چلانا بھی جانتی تھیں اور اگر کبھی ان کا نشانہ میرے نشانہ سے بڑھ جاتا تو ان کی خوشی کی حد نہ رہتی۔پہاڑ و دریا کی سیر سے لذت اُٹھانا انہی کو آتا تھا۔۱۹۲۱ء میں کشمیر میرے ساتھ گئیں تو وہ ان کے ساون بھادوں کا موسم تھا۔میں سنجیدگی کی طرف بلاتا اور وہ قہقہوں کی طرف بھاگتیں نتیجہ یہ ہوا کہ نہ سنجیدگی رہی اور نہ قہقہے ساون کی جھڑیوں کی طرح جو آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہوئے تو کشمیر سے واپسی تک بہتے ہی چلے گئے۔دوسری دفعہ ہم پھر میریم ہی کے کہنے پر کشمیر گئے ۱۹۲۹ ء کا زمانہ تھا۔اب تین بچے مریم کے اپنے تھے اور تین امتہ الحی مرحومہ کے اس سبب سے کچھ تو مریم میں سنجیدگی پیدا ہو گئی تھی کچھ مجھے امتہ الحی مرحومہ کے بچوں کے پالنے کی وجہ سے ان کا لحاظ زیادہ ہو گیا تھا اس لئے اب ان کے قہقہوں کے لئے فضا سازگار ہو گئی تھی۔پس اس دفعہ کشمیر کی خوب سیر کی اور ۱۹۲۱ ء کی کمی پوری کر لی مگر یہ حسرت پھر بھی رہ گئی کہ مجھے ایک دفعہ کشمیر کیلئے دکھا دو یعنی جب کوئی دوسری بیوی ساتھ نہ ہو۔مریم کی طبیعت میں یہ عجیب متضاد بات تھی کہ میرے سب بچوں عجیب متضاد بات سے خواہ کسی ماں سے ہوں وہ بے انتہا محبت کرتی تھیں بلکہ ادب تک کرتی تھیں۔لیکن میری بیویوں سے ان کی نہ بجھتی تھی۔گنواروں کی طرح لڑتی نہ تھیں مگر دل میں غصہ ضرور تھا۔ان کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ کسی نہ کسی امر میں ان سے امتیازی سلوک ہوا اور چونکہ خدا اور رسول کے ماتحت میں ایسا نہ کر سکتا تھا ، وہ یہ یقین رکھتی تھیں کہ میں اِن