انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 300

تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض انوار العلوم جلد ۱۷ رکھتے ہیں کہ وہ غلط اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ مذہب کے خلاف ہوتا ہے۔ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ خدا کا فعل اُس کے قول کے خلاف ہوتا ہے، نہ ہم یہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ خدا کا قول اُس کے فعل کے خلاف ہوتا ہے۔ہمیں ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ خواہ ہمارے پاس ایسے ذرائع نہ بھی ہوں جن سے اِن اعتراضات کا اسی رنگ میں دفعیہ کیا جا سکتا ہو جس رنگ میں وہ اسلام پر کئے جاتے ہیں یا جن علوم کے ذریعہ وہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اُنہی علوم کے ذریعہ اُن اعتراضات کا رڈ کیا جا سکتا ہو۔پھر بھی یہ یقینی بات ہے کہ جو اعتراضات خدا تعالیٰ کی ہستی پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات خدا تعالیٰ کے رسولوں پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات اسلام کے بیان کردہ عقائد پر پڑتے ہیں وہ تمام اعتراضات غلط ہیں اور یقینا کسی غلط استنباط کا نتیجہ ہیں۔چونکہ اس قسم کے اعتراضات کا مرکز کالج ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کالج کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ مذہب پر جو اعتراضات مختلف علوم کے ذریعہ کئے جاتے ہیں اُن کا انہی علوم کے ذریعہ رد کیا جائے۔اور ہمارے کالج میں جہاں اِن علوم کے پڑھانے والے پروفیسر مقرر ہوں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہو کہ وہ انہی علوم کے ذریعہ ان اعتراضات کو رڈ کریں اور دنیا پر ثابت کریں کہ اسلام پر جو اعتراضات اِن علوم کے نتیجہ میں کئے جاتے ہیں وہ سرتا پا غلط اور بے بنیاد ہیں۔پس جہاں دوسرے پروفیسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کو زیادہ سے زیادہ قوی کرتے چلے جائیں وہاں ہمارے پروفیسروں کی غرض یہ ہوگی کہ وہ ان اعتراضات کا زیادہ سے زیادہ رڈ کرتے چلے جائیں۔اب تک ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے یہ کام سرانجام دیا جا سکتا۔انفرادی طور پر ہماری جماعت میں پروفیسر موجود تھے مگر وہ چنداں مفید نہیں ہو سکتے تھے اور نہ اُن کے لئے کوئی موقع تھا کہ وہ اپنے مقصد اور مدعا کو معتد بہ طور پر حاصل کرسکیں۔پس جہاں ہمارے کالج کے منتظمین کو اور عملہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ غیر مذاہب کے طالب علم جو داخل ہونے کے لئے آئیں اُن کے داخلہ میں کوئی ایسی روک نہ ہو جس کے نتیجہ میں وہ اس کا لج کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کر سکیں وہاں منتظمین کو یہ بھی چاہئے کہ وہ کالج کے