انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 299

انوار العلوم جلد ۷ ۲۹۹ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض ( تقریر فرموده ۴/ جون ۱۹۴۴ء۔برموقع افتتاح تعلیم الاسلام کالج قادیان ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے معوذتین کی تلاوت کی اور اس کے بعد فرمایا : - یہ تقریب جو تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی ہے اپنے اندر دو گنا مقاصد رکھتی ہے۔ایک مقصد تو اشاعتِ تعلیم ہے جس کے بغیر تمدنی اور اقتصادی حالت کسی جماعت کی درست نہیں رہ سکتی۔جہاں تک تعلیمی سوال ہے یہ کالج اپنے دروازے ہر قوم اور ہر مذہب کے لئے کھلے رکھتا ہے کیونکہ تعلیم کا حصول کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم تعلیم کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے ہر انسان کے لئے ممکن اور سہل الحصول بنا دیں۔میں نے لاہور میں ایک دو ایسی انسٹی ٹیوٹ دیکھیں جن کے بانی نے یہ شرط لگا دی تھی کہ ان میں کسی مسلمان کا داخلہ نا جائز ہو گا۔مجھ سے جب اس بات کا ذکر ہوا تو میں نے کہا اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی ایسی ہی انسٹی ٹیوٹ قائم کریں اور اس میں یہ واضح کریں کہ اس میں کسی غیر مسلم کا داخلہ نا جائز نہ ہوگا، کیونکہ ایک مسلم کا اخلاقی نقطہ نگاہ دوسری قوموں سے مختلف ہوتا ہے۔پس جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہر مذہب وملت کے لوگوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا آسان ہو۔اس کالج کے دروازے ہر مذہب وملت کے لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور انہیں ہر ممکن امداد اس انسٹی ٹیوٹ سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دی جائے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ آجکل کی تعلیم بہت سا اثر مذہب پر بھی ڈالتی ہے۔ہم یقین