انوارالعلوم (جلد 17) — Page xv
انوار العلوم جلد کا تعارف کتب برکت دہندہ اور نزولِ برکات کا مقام ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ہر کام جو اس مسجد میں کیا جائے گا وہ مبارک ہوگا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ نماز مبارک ہے جو اس مسجد میں ادا کی جائے ، وہ سجدہ مبارک ہے جو اس مسجد میں کیا جائے ، وہ قومہ مبارک ہے جو اس مسجد میں کیا جائے ، وہ تشہد مبارک ہے جو اس مسجد میں کیا جائے ، وہ سلام مبارک ہے جو اس مسجد میں کیا جائے ، وہ تکبیر مبارک ہے جو اس مسجد میں کہی جائے اور وہ دعائیں مبارک ہیں جو اس مسجد میں کی جائیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنی برکتیں ، اتنی عظیم الشان برکتیں نازل ہوں اور پھر انسان ان برکات سے منہ پھیر کر چلا جائے اور چھ مہینے یا سال کے بعد اس مسجد میں آ کر کوئی ایک نماز ادا کرے تو اس سے زیادہ محروم اور بدقسمت انسان اور کون ہوسکتا ہے“۔(۷) مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مؤرخہ ۸ مارچ ۱۹۴۴ء کو مسجد مبارک میں بعد نماز مغرب ایک مختصر خطاب فرمایا جس میں اپنے اس ارادہ کا ذکر فرمایا کہ میں نے غلبہ اسلام کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر جا کر متواتر چالیس روز تک دعا کرنے کا پروگرام بنایا ہے کیونکہ بعض خاص وجودوں کے ساتھ دعا کی قبولیت کو خاص تعلق ہوتا ہے۔چنانچہ اسلام کی فتح روحانی کیلئے ان دردمندانہ دعاؤں کا سلسلہ دوسرے دن مؤرخہ ۹ / مارچ ۱۹۴۴ء سے شروع ہو گیا۔۹ / مارچ بعد نماز عصر حضور بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے۔اس موقع پر آپ نے دعا کرنے سے قبل چار دیواری کے دروازہ میں کھڑے ہو کر اس طریق اور عمل کی حکمت اور وضاحت پر مبنی مختصر خطاب فرمایا جو مؤرخہ ۷رمئی ۱۹۴۴ء کو روزنامه الفضل قادیان میں شائع ہوا۔حضور انور نے اپنے اس پر معارف خطاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر متواتر چالیس روز دعا کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔,, ” ہماری غرض یہاں آ کر دعائیں کرنے سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ