انوارالعلوم (جلد 17) — Page xiv
انوار العلوم جلد کا تعارف کتب چنانچہ اعلانِ مصلح موعود کے سلسلہ کا پہلا جلسہ عام ۲۰ فروری ۱۹۴۴ء کو ہوشیار پور میں منعقد ہوا جس میں حضرت مصلح موعود نے یہ روح پرور اور وجد آفرین خطاب فرمایا۔اس میں آپ نے پیشگوئی مصلح موعود کے پس منظر پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ پیشگوئی کس طرح نہایت مخالفانہ حالات کے باوجود خارق عادت رنگ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔اس سلسلہ میں حضور نے اس انکشاف سے متعلق اپنی تازہ رویا بھی بڑی شرح وبسط سے بیان کی اور پھر فرمایا کہ:۔میں آج اسی واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ و تصرف میں میری جان ہے کہ میں نے جور و یا بتائی ہے وہ مجھے اسی طرح آئی ہے الا مَا شَاءَ اللہ کوئی خفیف سا فرق بیان کرنے میں ہو گیا ہو تو علیحدہ بات ہے۔میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے کشفی حالت میں کہا اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُهُ اور میں نے اس کشف میں خدا کے حکم سے یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔پس میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں ہی موعود ہوں اور کوئی موعود قیامت تک نہیں آئے گا“۔(۶) ایک اہم ہدایت حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے مؤرخہ 9 مارچ ۱۹۴۴ء کو بعد نماز عصر مسجد مبارک قادیان میں یہ تقریر ارشاد فرمائی جس میں اہل قادیان کو روزانہ کم از کم ایک نماز مسجد مبارک قادیان میں ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور نے اپنی اس تقریر میں مسجد مبارک قادیان کی عظمت اور فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔دو یہ مسجد تو وہ ہے جسے خدا نے بار بار مبارک کہا اور نہ صرف یہ کہا کہ یہ مسجد