انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xiii

انوار العلوم جلد کا تعارف کتب مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کو مؤرخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو اخبار ریاض ہند میں شائع کروا دیا۔یہ عظیم الشان پیشگوئی جماعت احمدیہ میں ” پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے موسوم ہے۔اس پیشگوئی کے عین مطابق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ولادت ۱۲ / جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی اور پیشگوئی میں بیان فرمودہ تمام صفات آپ کے وجود میں بکمال تمام پوری ہوئیں اور اِس طرح آپ کے پسر موعود ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ احباب جماعت نے آپ کے نام کے ساتھ پیشگوئی مصلح موعود میں مذکور تمام صفاتی ناموں کا ذکر تحریر و تقریر میں شروع کر دیا مگر حضرت مصلح موعود اپنی عاجزی و انکساری کے باعث با قاعدہ طور پر دعوی مصلح موعود کی ضرورت محسوس نہ کرتے تھے۔جنوری ۱۹۴۴ء میں حضرت اُمّم طاہر کی بیماری کے سلسلہ میں جب آپ حضرت شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کی کوٹھی واقع ۱۳ ٹمپل روڈ لاہور میں مقیم تھے تو مؤرخہ 4 جنوری کی رات حضور نے ایک لمبی رؤیا دیکھی جس میں آپ پر انکشاف ہوا کہ آپ ہی وہ پسر موعود و مصلح موعود ہیں جس کا ذکر ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء والی پیشگوئی میں کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس انکشاف کے بعد حضور انور مؤرخہ ۲۷ / جنوری کو قادیان تشریف لائے اور اگلے روز ۲۸ / جنوری کو مسجد اقصیٰ قادیان میں خطبہ جمعہ میں اپنی تازہ رؤیا کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے یہ پر شوکت اعلان فرمایا کہ:۔دو میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں“۔مصلح موعود کا ظہور مذہبی دنیا میں زبر دست تہلکہ مچا دینے والا واقعہ تھا جو اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ بیرونی دنیا میں عموماً اور سرزمین ہند کے اکناف میں خصوصاً پورے زور سے یہ آواز بلند کر دی جائے۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر ۱۹۴۴ ء کے شروع میں ہوشیار پور، لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں پبلک جلسے منعقد کئے گئے۔یہ چاروں جلسے الگ الگ نشان کے حامل اور نہایت درجہ روح پرور ، ایمان افروز اور کامیاب جلسے تھے جن میں خود حضرت سیدنا مصلح موعود نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور اپنی پُر شوکت تقریروں میں اپنے دعوئی مصلح موعود کا حلفیہ اور پر جلال اعلان فرمایا اور اہلِ ہند پر حجت تمام کر دی۔