انوارالعلوم (جلد 16) — Page 499
۲۶ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو سپین والے جو یہ خواہیں دیکھ رہے تھے کہ انگلستان ، فرانس اور امریکہ کی حکومتیں اب بوڑھی ہوچکی ہیں اُن کی جگہ اب ہمیں موقع ملنا چاہئے تا کہ ہم بھی حکومت کا مزا اُٹھائیں وہاں جب یہ تحریک پہنچی تو ان کے دلوں میں سخت گھبراہٹ اور تشویش پیدا ہوئی۔اُن کی حالت ایسی ہی تھی جیسے چیلیں اور گد ھیں جب کسی بیل کو دم تو ڑتا ہوا دیکھتی ہیں تو بڑے مزے سے اس انتظار میں بیٹھ رہتی ہیں کہ کب یہ بیل مرے کہ ہم اسے نوچ نوچ کر کھا جائیں اسی طرح جرمن اور اٹلی والے دیکھ رہے تھے کہ کب انگلستان، فرانس اور امریکہ کا زور ٹوٹے کہ ہم اُن کی حکومتوں پر قابض ہو جائیں اور جس طرح ایک لمبے عرصہ تک انہوں نے دُنیا کی دولت سے فائدہ اُٹھایا ہے اسی طرح ہم بھی اُٹھا ئیں۔ان لوگوں کو اس تحریک سے سخت تشویش پیدا ہوئی کہ ہم تو کہتے ہیں کہ ہمیں آئندہ حکومت ملے اور یہ تحریک سب حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے نتیجہ یہ ہوا کہ اس تحریک کا رد عمل ان ممالک میں پیدا ہوا۔چنانچہ اٹلی میں مسولینی کے ذریعہ فیسزم پیدا ہوا، جرمنی میں اس کا توڑ ہٹلر نے ناٹسزم کے ذریعہ نکالا اور سپین میں فرینکو اور فیلنگس تحریک نے سر اُٹھایا۔بالشوزم کے مقابلہ میں نئی تحریکات کا مقصد ان تینوں تحریکات کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا بالشوزم کا مقابلہ کرنا۔انہوں نے سمجھا کہ اگر یہ خیالات لوگوں میں پھیل گئے تو ہماری ترقی بالکل رُک جائے گی۔چونکہ عوام الناس پر بالشویک تحریک کا اثر لازمی تھا اس لئے غرباء اس تحریک کے حامی تھے کیونکہ وہ کہتے تھے اس ذریعہ سے ہمیں کپڑے ملیں گے ، کھانا ملے گا، دوا ملے گی اور ہماری تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔دُور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں۔ہندوستان میں بھی کئی لوگ بالشویک تحریک کے حامی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت میں سرکار کے آدمی ہر شخص کے پاس آتے اور اُسے سلا سلا یا پاجامہ اور سلی سلائی قمیص دے دیتے ہیں، اسی طرح کھانے کے لئے جس قدر غلہ ضروری ہو وہ دے دیتے ہیں یا اور جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے حکومت فوراً مہیا کر دیتی ہے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر یہ تحریک جاری ہو جائے تو دُنیا کا تمام موجودہ نظام تو ڑ کر بے شک ہر شخص کو روٹی کپڑا ملے گا لیکن جو بچے گا وہ سر کا ر لے جائے گی مگر عام لوگ ان باتوں کو نہیں دیکھتے وہ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ اس تحریک کے نتیجہ میں ہمیں روٹی کپڑا ملے گا اور کوئی شخص نگا یا بھوکا نہیں رہے گا۔