انوارالعلوم (جلد 16) — Page 498
۲۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کر لیں حالانکہ اس رنگ میں دل کی سختی صاف رکھنے کے معنے سوائے دہریت کے اور کچھ نہیں۔جب وہ اٹھارہ بیس سال تک اپنے مطلب کی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے رہتے ہیں تو جوان ہونے پر اُن کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کے دل کی سختی بالکل صاف رکھی تھی صریح جھوٹ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس طرح دل کی سختی صاف نہیں رکھتے بلکہ انہیں دہریت کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں پس اس اصل نے آئندہ نسلوں کو بالکل دہر یہ بنا دیا ہے۔چھٹے اُصول کا نتیجہ یعنی غیر ممالک چھٹے اصول کے مطابق انہوں نے اپنے ملک سے باہر دوسرے ممالک میں جا کر اپنے میں اپنے خیالات کا پروپیگنڈا خیالات پھیلانے اور ریشہ دوانیاں کرنی شروع کر دیں۔چونکہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہمیشہ اپنے اصول کے لئے حملہ کا پہلو اختیار کرنا چاہئے دفاع کا نہیں اس لئے انہوں نے اپنے ایجنٹ جرمنی اور جاپان اور اٹلی وغیرہ میں بھجوانے شروع کر دیئے اور بیرونی ممالک میں ان کا نام کمیونسٹ پڑا۔پنجاب میں بھی کمیونسٹ پائے جاتے ہیں، ہندوستان کے باقی صوبہ جات مثلاً بہار وغیرہ میں بھی ہیں۔اس طرح مارکس (بنی اسرائیلی النسل المانوی المَوْلدُ) کے اصول کی حکومت روس پر ہوگئی اور یہ تحریک اس رنگ میں جاری ہوگئی کہ اس کے نتیجہ میں ہر شخص کو روٹی کپڑا ملے گا، غربت دُور ہوگی اور امراء اور غرباء میں مساوات قائم ہو جائے گی چونکہ اس تحریک کا اثر آہستہ آہستہ ساری دنیا پر پڑنے لگا اس لئے اس تحریک کا ایک اور نتیجہ بھی برآمد ہوا۔یورپ میں بالشوزم کا رد عمل تین تحریکات کی صورت وہ یہ کہ جب بالشوزم کے میں یعنی فیسزم، ناٹسزم ایجنٹ سارے ملکوں میں پھیل گئے اور وہ دوسرے ممالک کو اورفیلنگس کا آغاز بھی اس تحریک کے زیر اثر لانے لگے تو یورپ کے بعض دوسرے ممالک جیسے جرمنی اور اٹلی جو اس بات کی خوا ہیں دیکھ رہے تھے کہ موجودہ طاقتور حکومتوں کے زوال پر دُنیا کی سیاست اور اقتصاد پر قابض ہوں گے انہوں نے اس میں اپنے خواب کی تخریب دیکھی۔یہ ممالک سوچ رہے تھے کہ فرانس، انگلستان اور امریکہ بہت دیر تک دُنیا پر حکومت کر چکے ہیں اور اب ایک لمبے عرصہ کی حکومت کے بعد ان میں تعیش پیدا ہو چکا ہے اور یہ حکومتیں کمزور ہو رہی ہیں اب دنیا پر حکومت کرنا ہمارا حق ہے۔پس جرمن، اٹلی اور