انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 445

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ بعض اہم اور ضروری امور ( تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۲ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آج نماز میں ، جلسہ سالانہ کے موقع پر نمازوں سہو ہو گیا تھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہو کرادیا گیا تھا میں دو رکعت پڑھنے کے بعد تشہد کے لئے بیٹھا کہ کسی نے کے انتظام میں اصلاح کی جائے کہا سُبْحَانَ اللهِ جس کے معنے یہ تھے کہ یہ تشہد کا موقع نہیں آپ بھول گئے ہیں اور کھڑا ہونے لگا کہ پھر آواز آئی سُبْحَانَ اللہ اس پر میں بیٹھا ہی رہا تھا کہ پھر کسی نے سُبْحَانَ اللہ کہا اس پر میں کھڑا ہو گیا مگر ابھی سورہ فاتحہ کی دو تین ہی آیات پڑھی تھیں کہ پھر سُبْحَانَ اللہ کی آواز آئی اِس پر میں نے سمجھ لیا کہ دراصل میں نہیں بھولا بلکہ خضر ہی بُھولے ہوئے تھے۔بہر حال غلطی شروع ہو چکی تھی اس لئے بعد میں سجدہ سہو کیا گیا تھا اور مجھے خطرہ تھا کہ لوگوں نے پانچویں رکعت نہ شروع کر دی ہو وہ دراصل سجدہ سہو تھا۔ایک صاحب نے کہا ہے کہ یہاں تو روز ہی نماز خراب کی جاتی ہے یہ منتظمین کا نقص ہے اتنے سالوں سے یہ نقص چلا آتا ہے اور وہ اس کی اصلاح نہیں کرا سکے اس کے لئے کوئی پختہ انتظام ہونا چاہئے۔منتظم ہمیشہ بڑے اصرار سے کہتے ہیں کہ اب کے ٹھیک انتظام کر دیا گیا ہے مگر جب پھر غلطی ہوتی ہے تو اس قسم کا جواب دے دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے کہا تھا کہ انتظام کرے اور اُس نے فلاں سے کہہ دیا تھا ان کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کہتے ہیں کہ کسی امیر آدمی کے پاس کوئی فقیر آ گیا اور سوال کیا اُس نے کہا اس وقت جاؤ اس وقت پیسے نہیں ہیں مگر فقیر اصرار کرنے لگا کہ اس کے کام میں حرج