انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 410

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ یہ دلیل دے سکتا ہے کہ میں پرانے صدر کے خلاف نہیں مگر اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ نئے آدمیوں کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے تا کہ انہیں بھی تجربہ حاصل ہوا اور وہ بھی اس قسم کی ذمہ واری کا کام کرنے کے قابل ہوسکیں۔اس کے مقابلہ میں جو شخص پرانے صدر کا حامی ہو وہ یہ کہ سکتا ہے کہ جب ایک شخص کو تجربہ حاصل ہو چکا ہے تو اگر اسے ہٹا دیا جائے تو خدام الاحمدیہ کو اس کے تجربہ سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔غرض اپنے اپنے رنگ میں دونوں فریق دلائل دے سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ اس طرح علمی ترقی ہوتی ہے ہاں اُس وقت وقتی طور پر ایسا صدر ہونا چاہئے جوز بر دست اور بارعب ہوا اور کسی کو مقررہ حدود سے باہر نہ نکلنے دے بلکہ جیسے پارلیمنٹ کے جلسوں میں ایسے موقع پر صدر کو سپاہیوں کی ایک جمعیت دے دی جاتی ہے تا کہ اگر کوئی نافرمانی کرے تو پولیس کے ذریعہ اس کا تدارک کیا جائے اسی طرح انتخابات کے موقع پر جو وقتی طور پر صدر مقرر ہو اُس کے ساتھ بھی نو جوانوں کا ایک گروہ ہونا چاہئے تا کہ اگر کوئی شخص نافرمانی کرے تو اسے مجلس سے نکالا جا سکے یا اُسے مناسب سزا دی جائے۔اسی طرح دوسرے لوگ بھی صدر اُس وقت جو بھی حکم دے اُس کو دلیری سے اور بغیر کسی کے لحاظ کے پورا کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں اس رنگ میں اگر کوئی کام کیا جائے اور باہر سے آنے والوں کی رائے اِن کی جماعت کی تعداد کوملحوظ رکھ کر شمار کی جائے تو اس طرح نہ صرف جماعتوں کو اُن کا ایک حق دیا جا سکے گا بلکہ مرکز کو بھی آئندہ یہ خیال رہے گا کہ وہ ہر جماعت کی تعداد کو محفوظ رکھے۔فرض کرو ایک شخص کہتا ہے ہماری جماعت کی تعداد دو سو ہے ایسے موقع پر اگر مرکز کے پاس اس جماعت کی تعداد محفوظ ہوگی تو وہ بتا سکے گا کہ یہ تعداد درست ہے یا نہیں یا اس تعداد میں کتنی کمی بیشی ہے۔پس اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو مرکز کو توجہ رہے گی کہ وہ تمام جماعتوں کو ایک نظام کے ماتحت لانے کی کوشش کرے اور دوسری طرف جماعتوں کو یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہماری جماعت کی تعداد زیادہ ہو اور ہم وقت سے پہلے پہلے اپنی تعداد کو درج رجسٹر کرالیں۔پس ایک تو آئندہ سال سے اس بات کا انتظام کرنا چاہئے دوسرے قادیان کے محلوں میں سے بھی ایسے موقع پر ان کے صرف نمائندے ہی آنے چاہئیں تا کہ جب انتخاب ہو تو اُس وقت ہجوم نہ ہو۔ہر محلے والے اپنے اپنے آدمی بھیج دیں اور اُن کا فرض ہو کہ جب انتخاب کا وقت آئے تو وہ اکثریت کی رائے کو پیش کردیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ کچھ لوگوں کی رائے ایک طرف ہو سکتی ہے اور کچھ لوگوں کی رائے دوسری طرف ہو سکتی ہے اور اس طرح ان