انوارالعلوم (جلد 16) — Page 409
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب۔سے شمار ہونا چاہئے در حقیقت اصول یہی ہوتا ہے کہ چونکہ جماعت کے تمام افراد جمع نہیں ہو سکتے اس لئے اُن کا نمائندہ جب کسی رائے کا اظہار کرتا ہے تو وہ رائے تمام جماعت کی سمجھی جاتی ہے اس وجہ سے اُس کا ووٹ ایک نہیں ہوگا بلکہ جس قدر اُس جماعت کے افراد ہوں اُسی قدر اُس کے ووٹ سمجھے جانے چاہئیں۔مثلاً فرض کر و لا ہور کی جماعت والے کسی ایک شخص کو بھیج دیتے ہیں اور لاہور کی جماعت کے ممبر ڈیڑھ سو ہیں تو جب ووٹ لیا جائے گا اس ایک شخص کا ووٹ ڈیڑھ سو ووٹ کا قائم مقام سمجھا جائے گا۔ایسے موقع پر پہلے سے آئندہ سال کے لئے عہدہ داروں کے نام منگوا لینے چاہئیں اور اُن ناموں کی بیرونی جماعتوں کو اطلاع دے دینی چاہئے کہ فلاں فلاں نام صدارت کے لئے تجویز کئے گئے ہیں ان کے متعلق اپنی جماعت کی رائے دریافت کر کے اپنے نمائندہ کو اطلاع دے دی جائے مگر اس بات کا نہایت سختی سے انتظام کرنا چاہئے کہ انتخاب کے موقع پر کسی قسم کا پراپیگنڈا نہ ہو یہ اسلامی ہدایت ہے اور جو شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ مجرم ہے۔ہر شخص کی جو ذاتی رائے ہو وہی اُسے پیش کرنی چاہئے۔جو شخص دوسرے سے یہ کہتا ہے کہ میرے حق میں ووٹ دو یا کسی دوسرے کی رائے کو کسی دوسرے کے حق میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے وہ قوم کا مجرم ہے اور ایسے شخص کو سخت سزا دینی چاہئے تا کہ آئندہ جماعت کے قلوب میں یہ امر راسخ ہو جائے کہ ہم نے ایسے انتخابات میں کبھی بھی دوسرے کی رائے کے پیچھے نہیں چلنا بلکہ جو ذاتی رائے ہو اُسی کو پیش کرنا ہے۔ہاں جیسا کہ صحابہ کے طریق سے معلوم ہوتا ہے عین مجلس میں ایک دوسرے کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا حق حاصل ہے چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جب خلافت کے لئے انتخاب ہوا تو اس پہلی خلافت کے موقع پر انصار اور مہاجرین دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دلائل دیئے۔مہاجرین نے اس بات کے دلائل دیئے کہ کیوں مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہئے اور انصار نے اس بات کے دلائل دیئے کہ کیوں کم سے کم انصار میں سے بھی ایک خلیفہ ہونا چاہئے۔انصار کہتے تھے کہ ہم اس بات کے مخالف نہیں کہ مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ ہو ہم صرف یہ کہتے تھے کہ ہم میں سے بھی ایک خلیفہ ہو اور مہاجرین میں سے بھی ایک خلیفہ ہولے غرض مجلس میں دلائل دیئے جا سکتے ہیں مگر یہ جائز نہیں کہ الگ اور مخفی طور پر دوسروں کو تحریک کی جائے کہ فلاں کے حق میں رائے دی جائے اِس قسم کا پراپیگنڈا اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ہاں جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجلس میں آکر اپنے اپنے دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں مثلاً فرض کرو صدر کے انتخاب کے موقع پر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ نئے آدمیوں کو کام