انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 350

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ساری پیالیاں پی جاتا ہوں۔ایک دفعہ ایک نئے دوست احمدی ہوئے جو بعد میں بہت مخلص ہو گئے ، ڈپٹی آصف زمان صاحب اُن کا نام تھا۔وہ پہلے سال جلسہ میں شریک ہوئے تو انہوں نے بعد میں مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب سے کہا کہ خان صاحب! یہ کیا غضب کرتے ہیں۔خلیفہ اسیح کو تو لیکچر میں ہوش ہی نہیں رہتی اور آپ لوگ تیں چالیس پیالیاں چائے کی اُن کے آگے رکھ دیتے ہیں اتنی چائے انہیں سخت نقصان دے گی۔تو دنیا میں جب کسی چیز کو بے احتیاطی استعمال کیا جائے تو اُس کی وجہ سے انسان کو تکلیف ہو جاتی ہے مگر فرمایا وہ پھل عجیب خاصیت اپنے اندر رکھتے ہوں گے کہ نہ تو کسی موسم میں ختم ہوں گے اور نہ کوئی بداثر جسم پر پڑیگا بلکہ ہر حالت میں انسان اُن کو کھا سکے گا۔دنیا کی غذاؤں کو تو روکنا پڑتا ہے مگر روحانی چیزیں چونکہ ایسی نہیں ہوتیں اور اُن کی بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے علم اور معرفت میں بڑھ جائے اس لئے جنت کی چیزیں انسان رات اور دن کھاتا چلا جائے گا اور اسے کسی وقفہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔یہ خواص بتاتے ہیں کہ ان پھلوں سے مادی پھل نہیں بلکہ روحانی پھل مراد ہیں۔اسی وجہ سے احادیث میں آتا ہے کہ جنت کے رزق کا کوئی پاخانہ نہیں آئے گا اور آئے کس طرح جبکہ وہ رزق مادی ہو گا ہی نہیں بلکہ روحانی ہوگا۔نعماء کے پہلو بہ پہلو مغفرت کا دور جب میں یہاں پہنچا تو مجھے خیال آیا کہ اف! کھانے اور پینے کی جہاں اتنی چیزیں ہوں گی، وہاں تو دن اور رات میں کھانے اور پینے میں ہی مشغول رہوں گا اور میرا آقا مجھ سے ناراض ہو گا کہ یہ کیسا غلام ہے جو رات دن کھاتا پیتا رہتا ہے۔پس میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں میں ان کھانے پینے کی چیزوں کے ذریعہ اپنے آقا کی ناراضگی تو مول نہیں لے لونگا اور کیا وہ مجھے نہیں کہے گا کہ میں نے تم کو اس لئے غلام بنایا تھا کہ تم رات اور دن کھاتے پیتے رہو ؟ جب میرے دل میں یہ ڈر پیدا ہوا تو میں نے پھر قرآن کریم کی طرف نظر کی کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے اور میں نے وہاں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ اسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِلشَّرِبِيْنَ وَانْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفَّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمُ۔اس جنت کی حالت اور کیفیت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ لوگ اپنے باغوں