انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 336

انوار العلوم جلد ۱۶ اپنا انتظام کر لونگا ابھی تو میں خدا تعالیٰ کا مہمان ہوں۔سیر روحانی (۳) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے پاک بندوں کی الگ الگ کی مہمانیاں ہوتی ہیں اور جیسے انسان مختلف ہوتے ہیں اسی طرح اس کا سلوک بھی مختلف قسم کا ہوتا ہے مگر بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا غلام بن جائے تو پھر وہ اُس کی ضروریات کا آپ متکفل ہو جاتا ہے۔تمام خواہشات کے پورا ہونے کی خوشخبری پھر میں نے سوچا کہ اچھا غلام بن کر ایک بات تو ضرور ہوگی کہ مجھے اپنی خواہشات کو چھوڑنا پڑے گا اور خواہشات کی قربانی بھی بڑی بھاری ہوتی ہے۔اس پر مجھے اسی غلاموں کے داروغہ نے کہا، آقا کی طرف سے ایک اور پیغام بھی آیا ہے اور وہ یہ کہ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ٣١ اے میرے بندے! چونکہ اب تو ہمارا غلام بن گیا ہے اس لئے جہاں آقا ہوگا وہیں غلام رہے گا تو جا اور ہماری جنت میں رہ۔مگر اس جنت میں آکر یہ خیال نہ کرنا کہ آقا کا مال میں کس طرح استعمال کروں گا۔وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُونَ تمہارے دلوں میں جو بھی خواہش پیدا ہو گی وہ وہاں پوری کر دی جائے گی یعنی ادھر تمہارے دلوں میں خواہش پیدا ہو گی ، اُدھر اس کے مطابق چیز تیار ہوگی اور جو مانگو گے ملے گا۔اعزہ واقرباء کی دائمی رفاقت پھر مجھے خیال آیا کہ بہر حال غلامی کی یہ شرط تو باقی رہے گی کہ مجھے اب اپنے عزیز واقرباء چھوڑنے پڑیں گے۔کیونکہ جب غلام ہوا تو اُن کے ساتھ رہنے پر میرا کیا اختیار۔لیکن اس بارہ میں بھی داروغہ غلامان نے مجھے حیران کر دیا اور کہا کہ دیکھو میاں! آقا نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ جَنْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمُ مِنْ كُلِّ بَابٍ یعنی بجائے اس کے رشتہ داروں کو الگ الگ رکھا جائے سب کو اکٹھا رکھا جائے گا ، اگر ان میں سے بعض ادنی عمل والے ہوں گے تب بھی اُن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اعلیٰ مقام والوں کے پاس لے جائے گا اور رشتہ داروں کو جُدا جُدا نہیں رکھے گا۔