انوارالعلوم (جلد 16) — Page 337
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) روحانی مینا بازار میں ملنے والی نعماء تب میں نے کہا یہ تو بڑے مزے کی غلامی ہے کہ اس غلامی کو قبول کر کے قید و بند سے نجات ہوئی ، ہمیشہ کے لئے آقا نے کفالت لے لی ، خواہشات نہ صرف قربان نہ ہوئیں بلکہ ان میں وہ وسعت پیدا ہوئی کہ پہلے اس کا خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا، پھر رشتہ دار اور عزیز بھی ساتھ کے ساتھ رہے۔تب میں نے شوق سے اس بات کو معلوم کرنا چاہا کہ یہ تو اجتماعی انعام ہوا، وہ جو مینا بازار کی چیزوں کا مجھ سے وعدہ تھا اس کی تفصیلات بھی تو دیکھوں کہ کیا ہیں اور کس رنگ میں حاصل ہوں گی۔میں نے سوچا کہ اُن مینا بازاروں میں غلام فروخت ہوتے تھے اور میں گو ایک بے عیب غلام لحاظ سے آزاد ہوں مگر بہر حال غلام ہوں اس لئے غلام تو مجھے نہیں مل سکتے۔یہ کمی تو ضرور رہے گی ، مگر میں نے دیکھا اس جگہ دربار سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ جو اس آقا کے غلام ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں گے وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًاً ٣٣ اُن کی خدمت پر نوجوان غلام مقرر ہوں گے جو ہمیشہ وہاں رہیں گے اور وہ موتیوں کی طرح بے عیب ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔میں نے کہا دیکھو یہ کیسا فرق ہے اس مینا بازار اور دنیا کے مینا بازاروں میں ، دنیوی مینا بازاروں میں جو غلام خریدے جاتے ہیں اُن کے متعلق پہلا سوال تو یہی کیا جاتا ہے کہ قیمت ہے؟ اب بالکل ممکن ہے کہ ایک غلام کی قیمت زیادہ ہو اور انسان باوجود خواہش کے اسے خرید نہ سکے، پھر اگر خرید بھی لے تو ممکن تھا کہ وہ غلام چند دنوں کے بعد بھاگ جاتا ، اگر نہ بھاگتا تو ہو سکتا تھا کہ مر جاتا ، اگر وہ نہ مرتا تو خرید نے والا مر سکتا تھا۔غرض کوئی نہ کوئی نقص کا پہلو اس میں ضرور تھا ، مگر میں نے کہا یہ عجیب قسم کے غلام ملیں گے جو نہ بھاگیں گے نہ مریں گے بلکہ مُخَلَّدُونَ ہونگے یعنی ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔پھر ڈ نیوی مینا بازاروں میں تو انسان شاید ایک غلام خرید کر رہ جاتا یا دو غلام خرید لیتا یا تین یا چار خرید لیتا ، مگر اس مینا بازار میں تو بے انتہاء غلام ملیں گے چنانچہ فرماتا ہے اِذَا رَاَيْتَهُم حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْفُورًا جس طرح سمندر سے سینکڑوں موتی نکلتے ہیں اسی طرح وہ غلام سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوں گے۔پھر دُنیوی غلاموں میں سے تو بعض بدمعاش بھی نکل آتے