انوارالعلوم (جلد 16) — Page 268
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور مرکز میں جمع ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں اس کی تفاصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ ملکہ انسانی فطرت میں رکھا ہے کہ خطرہ کی حالت میں خود حفاظتی کا ذریعہ وہ خود سوچ سکتا ہے مگر اتنی بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ایسے موقع پر دوست مرکز میں جمع ہونے کی کوشش کریں۔جو قادیان میں آسکیں یہاں آجائیں اور جو نہ آسکیں وہ ضلع کے کسی مقام پر جہاں جماعت زیادہ ہو یا جہاں احمدی مالک ہوں جمع ہو جائیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اپنا گھر بار کس طرح چھوڑ ہیں۔یہ پاگل پن کی بات ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر بھی جاتا ہے اور ساتھ جان بھی ، اکیلا اکیلا آدمی کچھ نہیں کر سکتا۔اس جنگ کا ایک نیک اثر بھی ہے اور وہ یہ کہ جرمنی میں تبلیغ کا رستہ کھل جائے گا۔مجھے یہ رویا میں بتایا گیا ہے اور اس کے لئے ہمیں ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہئے۔ہم اس وقت وہاں مبلغ وغیرہ تو نہیں بھیج سکتے مگر اس کے لئے تیاری کر سکتے ہیں اور وہ کرنی چاہئے۔جو لوگ کسی کام سے پہلے اس کے لئے تیاری نہیں کرتے وہ کامیاب بھی نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح ناصری نے اس کی مثال یوں دی ہے۔آپ نے فرمایا:- اُس وقت آسمان کی بادشاہت اُن دس کنواریوں کی مانند ہوگی جو اپنی اپنی مشعلیں لے کر دولہا کے استقبال کو نکلیں۔ان میں پانچ بیوقوف اور پانچ عقلمند تھیں۔جو بیوقوف تھیں انہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔مگر عظمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی گپیوں میں تیل بھی لے لیا اور جب دولہا نے دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں۔آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دولہا آ گیا اُس کے استقبال کو نکلو۔اُس وقت وہ سب کنواریاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعلیں درست کرنے لگی اور بیوقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بھیجی جاتی ہیں۔عقلمندوں نے جواب میں کہا کہ شاید ہمارے تمہارے دونوں کے لئے پورا نہ ہو۔بہتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔جب وہ مول لینے جا رہی تھیں تو دولہا آپہنچا اور جو تیار تھیں وہ اُس کے ساتھ شادی میں چلی گئیں اور دروازہ بند کیا گیا۔پیچھے وہ باقی کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں۔اے خداوند !