انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 247

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور فلاں جگہ اتنی جلدوں کی ضرورت ہے، فلاں ملک میں ایک ہزار جلد بھجوائی جانی چاہئے اور اس طرح فروخت کر کے اس میں سے اپنا حصہ حاصل کر لیتے ہیں اس لئے ان کو خاص طور پر دکھ ہے یہ نبوت وغیرہ کے مسائل اور تقریریں کرنے کے جو سوال اُٹھائے جا رہے ہیں یہ دراصل تفسیر ہی کی جلن کا اظہار ہے۔حال ہی میں مجھے ایک دوست نے لکھا ہے کہ ان کے ایک مصنف نے اپنی انجمن کو لکھا ہے کہ اب کمیشن کی آمد بہت کم ہو گئی ہے اس لئے یا تو پراہم سو روپیہ ماہوار رقم کا انتظام کیا جائے اور یا پھر اتنی رقم مجھے قرض ہی دے دی جایا کرے گویا ان کی آمد پر اس کا اثر پڑا ہے اور اس وجہ سے وہ چیخ اُٹھے ہیں۔یہ مقابلہ جو اب ان کی طرف سے شروع ہوا ہے یہ دراصل تفسیر کا ہے نبوت وغیرہ کا نہیں۔بہر حال ان گالیوں سے ہم ناراض نہیں ہیں کیونکہ دراصل یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے قبول فرما لیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر کو شائع ہوئے بہت عرصہ ہو چکا اور ہماری جماعت کے دوست بھی حسبِ ضرورت اسے خریدتے رہے ہیں۔کئی دفعہ بعض علاقوں کے احمدیوں نے مجھ سے پوچھا کہ کونسی انگریزی تفسیر خریدیں؟ تو میں نے ان کو کہا کہ سر دست مولوی صاحب کی تفسیر خرید لیں۔لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ ابھی ایک ہی جلد شائع ہوئی ہے اور وہ مخالفت پر کھڑے ہو گئے ہیں۔اسی جوش میں مولوی محمد علی صاحب۔مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے مخالفت نے لکھا کہ میں اپنی جماعت کو ان کے خیالات سننے سے روکتا ہوں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔میں ہیں سال پہلے یہ جواب دے چکا ہوں کہ میں کسی کو ان کے یا کسی اور کے خیالات سننے سے نہیں روکتا۔جب شیخ مصری کا فتنہ شروع ہوا تو اُس وقت بھی میں نے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ کسی کو ان کے اشتہارات وغیرہ پڑھنے سے روکنے کی ضرورت نہیں جو پڑھتا ہے اسے پڑھنے دو۔ہماری جماعت کے لوگ کوئی بچے ہیں جو ہم اُنہیں اُنگلیوں سے لگائے پھریں؟ اور پھر ان کا یہ خیال بھی غلط ہے کہ ہماری جماعت کے دوست ان کے خیالات سے ناواقف ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ لاہور کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ان کے ایسے اچھے جواب لکھ رہا ہے وہ پڑھتا ہی ہے تو جواب لکھتا ہے ورنہ کیسے لکھ سکتا۔اسی طرح اور دوست بھی پڑھتے ہیں ان کی طرف سے ایسی باتیں محض ہماری توجہ کو دوسری طرف پھیرنے کا بہانہ ہے وہ بار بار کہتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو ان کی باتیں سننے سے روکتا ہوں کل کی رپورٹ کے مطابق یہاں ۲۳ ہزار مہمان آئے ہوئے ہیں اس وقت اس سے زیادہ ہوں