انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 234

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور بڑے فائدہ کا موجب ہوتی ہیں۔گل ہی میرا علمی مضمون ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ ان میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو عام ہیں اور روزمرہ ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے میں انہیں بیان کر سکوں یا نہ۔اور کس حد تک بیان کر سکوں لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آپ لوگ دیکھیں گے کہ ایسی ہی مثال ہوگی جیسے معمولی معمولی چیزوں سے ایک عجوبہ تیار کر لیا جائے جس رنگ میں یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا ہے وہ بالکل نرالا ہے اور اگر اسے سننے کے بعد کوئی کہے کہ یہ تو وہی باتیں ہیں جو عام طور پر ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں تو گو اس کی یہ بات صحیح تو ہوگی لیکن اگر وہ ان کی ترتیب کو دیکھے گا تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ اس رنگ کی ہے کہ یہ مضمون کسی کے ذہن میں پہلے نہیں آیا اور وہ محسوس کرے گا کہ یہ قرآن کریم کا بڑا کمال ہے کہ اس کے اندر سے نئے نئے علوم نکلتے رہتے ہیں۔میں قرآن کریم پر بہت غور کرنے والا آدمی ہوں اور اس مضمون کی ترتیب کو دیکھ کر میں خود حیران ہوں کہ جو آیات روزانہ ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں ان میں سے بعض ایسے نئے مضامین پیدا ہوئے ہیں کہ مجھے خود حیرت ہوتی ہے اس لئے یہ غذر کہ وہی باتیں دُہرائی جاتی ہیں بالکل غلط - ط ہے۔پس دوستوں کو اخبارات کی اشاعت کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے اور دوسروں کو بھی اس کی تحریک کرنی چاہئے۔ہماری جماعت اتنی ہی نہیں جتنی یہاں موجود ہے۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے بہت زیادہ ہے۔کسی زمانہ میں ساری جماعت عورتیں اور بچے ملا کر بھی اتنی ہی ہوگی جتنی اب یہاں موجود ہے مگر اُس وقت سلسلہ کے اخبارات کی اشاعت ڈیڑھ دو ہزار ہوتی تھی۔مگر اب الفضل کے خریدار صرف بارہ سو ہیں حالانکہ اگر کچھ نہیں تو پانچ چھ ہزار اس وقت ہونے چاہئیں۔لوگ غیر ضروری باتوں پر روپے خرچ کر دیتے ہیں۔امراء کے گھروں میں بیسیوں چیزیں ایسی رکھی رہتی ہیں جو کسی کام نہیں آتیں۔مگر لوگ ان پر اس لئے روپے خرچ کرتے ہیں کہ کبھی کسی مہمان کے آنے پر اس کے سامنے لائی جائے تو وہ دیکھ کر کہے کہ اچھا خان صاحب آپ کے پاس یہ چیز بھی موجود ہے۔بس اتنی سے بات سن کر ان کا دل خوش ہو جاتا ہے اور وہ پچاس روپیہ کی رقم جو اُس پر خرچ کی ہوتی ہے گویا اس طرح وصول ہو جاتی ہے۔تو ایسی غیر ضروری چیزوں پر تو لوگ روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی باتوں پر نہیں کرتے۔ان کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ وہ دُہرائی جاتی ہیں حالانکہ اخبارات نہ صرف ان کے